(۱۱۲۸۹) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَہْلِ بْنِ بَحْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو الطَّاہِرِ : أَحْمَدُ بْنُ عَمْرٍو
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَنِی أَبُو أَحْمَدَ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ سُلَیْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ قَالاَ حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَخْبَرَنِی جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی کَثِیرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی قَتَادَۃَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّہُ کَانَ یَطْلُبُ رَجُلاً بِحَقٍّ فَاخْتَفَی مِنْہُ فَقَالَ : مَا حَمَلَکَ عَلَی ہَذَا؟ قَالَ : الْعُسْرَۃُ قَالَ : فَاسْتَحْلَفَہُ عَلَی ذَلِکَ فَحَلَفَ فَدَعَا بِصَکِّہِ فَأَعْطَاہُ إِیَّاہُ وَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : مَنْ آسَی مُعْسِرًا أَوْ وَضَعَ عَنْہُ نَجَّاہُ اللَّہُ مِنْ کُرَبِ یَوْمِ الْقِیَامَۃِ ۔ لَفْظُ حَدِیثِ أَحْمَدَ بْنِ صَالِحٍ رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الطَّاہِرِ۔ [صحیح۔ مسلم ۱۵۶۳]
(١١٢٨٩) حضرت قتادہ (رض) اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ وہ ایک آدمی سے قرض واپس لینے کا مطالبہ کرتے تھے۔ پھر ایسا ہوا کہ وہ چھپ گیا۔ جب وہ دوبارہ ملاتو اس سے کہا : تو نے ایسا کیوں کیا ؟ اس نے کہا : تنگدستی کی وجہ سے تو انھوں نے اس سے قسم لی۔ تو اس نے قسم اٹھالی۔ انھوں نے اپنا اقرار نامہ منگوایا اور اسے دے دیا اور کہا : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا : جو شخص کسی تنگ دست سے نرمی کرے یا قرض معاف کرے تو اللہ تعالیٰ قیامت کی سختیوں سے اسے نجات دے گا۔