(۱۱۳۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ : الْحَسَنُ بْنُ یَعْقُوبَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْوَہَّابِ الْفَرَّائُ قَالَ سَمِعْتُ عَلِیَّ بْنَ عَثَّامٍ یَقُولُ حَدَّثَنِی مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الطَّلْحِیُّ عَنِ الزُّبَیْرِ بْنِ الْمَدِینِیِّ قَاضِیہِمْ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ جَعْفَرٍ اشْتَرَی أَرْضًا بِسِتِّمَائَۃِ أَلْفِ دِرْہَمٍ قَالَ فَہَمَّ عَلِیٌّ وَعُثْمَانُ أَنْ یَحْجُرَا عَلَیْہِ قَالَ : فَلَقِیتُ الزُّبَیْرَ فَقَالَ : مَا اشْتَرَی أَحَدٌ بَیْعًا أَرْخَصَ مِمَّا اشْتَرَیْتَ قَالَ فَذَکَرَ لَہُ عَبْدُ اللَّہِ الْحَجْرَ قَالَ : لَوْ أَنَّ عِنْدِی مَالاً لَشَارَکْتُکَ قَالَ : فَإِنِّی أُقْرِضُکَ نِصْفَ الْمَالِ قَالَ فَإِنَّی شَرِیکُکَ قَالَ : فَأَتَاہُمَا عَلِیٌّ وَعُثْمَانُ وَہُمَا یَتَرَاوَضَانِ قَالَ : مَا تَرَاوَضَانِ فَذَکَرَا لَہُ الْحَجْرَ عَلَی عَبْدِ اللَّہِ بْنِ جَعْفَرٍ فَقَالَ : أَتَحْجُرَانِ عَلَی رَجُلٍ أَنَا شَرِیکُہُ قَالاَ : لاَ لَعَمْرِی قَالَ فَإِنِّی شَرِیکُہُ فَتَرَکَہُ۔
(١١٣٣٥) حضرت عمرو بن زبیر فرماتے ہیں : عبداللہ بن جعفر نے چھ لاکھ درہم کی زمین خریدی، حضرت علی (رض) اور عثمان (رض) نے اس پر مالی تصرف کی پابندی لگانے کا ارادہ کرلیا۔ فرماتے ہیں : میں زبیرکو ملا تو انھوں نے کہا : تو نے جتنی سستی بیع کی ہے اتنی سستی بیع کسی اور نے نہیں کی ہوگی، پھر عبداللہ نے اپنے اوپر پابندی کا تذکرہ کیا تو انھوں نے کہا : اگر مال میرے پاس ہوتا تو میں تیرا شریک ہوتا۔ اس نے کہا : میں آپ کو نصف مال قرضے کے طور پر دیتا ہوں تو انھوں نے کہا : پھر میں آپ کا شریک ہوں۔ کہتے ہیں کہ پھر دونوں کے پاس علی اور عثمان (رض) آئے، وہ دونوں بحث کر رہے تھے، حضرت زبیر نے پوچھا : کس چیز پر بحث کر رہے ہو ؟ تو انھوں نے عبداللہ پر پابندی کا تذکرہ کیا، حضرت زبیر نے کہا : کیا تم اپنے آدمی پر پابندی لگاتے ہو جس کا میں شریک ہوں ؟ انھوں نے کہا : اللہ کی قسم ! فرمایا : میں اس کا شریک ہوں پھر پابندی ختم ہوگی۔