(۱۱۳۳۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ یَقُولُ حَدَّثَنِی عَمْرٌو النَّاقِدُ حَدَّثَنَا أَبُو یُوسُفَ الْقَاضِی یَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ہِشَامُ بْنُ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ جَعْفَرٍ أَتَی الزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَّامِ فَقَالَ إِنِّی اشْتَرَیْتُ کَذَا وَکَذَا وَإِنَّ عَلِیًّا یُرِیدُ أَنْ یَأْتِیَ أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینِ عُثْمَانَ یَعْنِی فَیَسْأَلَہُ أَنْ یَحْجُرَ عَلَیَّ فِیہِ فَقَالَ الزُّبَیْرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَا شَرِیکُکَ فِی الْبَیْعِ وَأَتَی عَلَی عُثْمَانَ فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ عُثْمَانُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : کَیْفَ أَحْجُرُ عَلَی رَجُلٍ فِی بَیْعٍ شَرِیکٌ فِیہِ الزُّبَیْرُ؟
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ: فَعَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لاَ یَطْلُبُ الْحَجْرَ إِلاَّ وَہُوَ یَرَاہُ وَالزُّبَیْرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ لَوْ کَانَ الْحَجْرُ بَاطِلاً قَالَ لاَ یُحْجَرُ عَلَی بَالِغٍ حُرٍّ وَکَذَلِکَ عُثْمَانُ بَلْ کُلُّہُمْ یَعْرِفُ الْحَجْرَ فِی حَدِیثِ صَاحِبِکَ۔
(١١٣٣٦) حضرت عروہ بن زبیر (رض) فرماتے ہیں : عبداللہ بن جعفر، زبیر بن عوام کے پاس آئے اور کہا : میں نے فلاں فلاں چیز خریدی ہے اور حضرت علی (رض) امیرالمومنین (رض) حضرت عثمان (رض) کے پاس جا کر مالی پابندی لگوانا چاہتے ہیں۔ حضرت زبیر نے فرمایا : بیع میں میں تیرا شریک ہوں، پھر حضرت عثمان کے پاس آئے اور یہ بات انھیں بیان کی تو حضرت عثمان (رض) نے فرمایا : میں اس آدمی پر کیسے مالی پابندی لگاؤں جس کا شریک زبیر ہے۔ امام شافعی فرماتے ہیں : حضرت علی (رض) نے پابندی کا مطالبہ کیا؛ کیونکہ ان کا مو قف تھا کہ بالغ پر پابندی لگائی جاسکتی ہے اور اگر بالغ پر پابندی جائز نہ ہوتی تو حضرت زبیر (رض) فرماتے ہیں : بالغ آزاد پر پابندی نہیں ہوسکتی اسی طرح حضرت عثمان (رض) ان سب کا موقف تھا کہ بالغ پر پابندی ہوسکتی ہے۔