(۱۱۳۴۹) أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ یَحْیَی بْنِ عَبْدِ الْجَبَّارِ السُّکَّرِیُّ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الشَّافِعِیُّ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الأَزْہَرِ حَدَّثَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ غَسَّانَ الْغَلاَبِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا شَرِیکٌ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ قَالَ : کَانَ لِرَجُلٍ عَلَی رَجُلٍ أَلْفٌ وَخَمْسُمِائَۃِ دِرْہَمٍ فَأَبَوْا أَنْ یُعْطُوہُ حَتَّی حَطَّ الْخَمْسَمِائَۃِ فَکَتَبَ عَلَیْہِ الْکِتَابَ وَأَبْرَأَہُ ثُمَّ أَخَذَہُ بِالْخَمْسِمَائَۃِ فَاخْتَصَمُوا إِلَی شُرَیْحٍ فَقَالَ لِلشُّہُودِ : ہَلْ وَضْعَ الْخَمْسَمِائَۃِ فِی کَفِّہِ فَقَالُوا : لاَ فَأَمَرَہُ فَرُدَّ عَلَیْہِ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَنَحْنُ أَیْضًا لاَ نُجِیزُ الْحَطَّ إِذَا کَانَ بِشَرْطٍ۔ [ضعیف]
(١١٣٤٩) ابو اسحاق سے روایت ہے کہ ایک شخص کے دوسرے پر ایک ہزار پانچ سو درہم تھے۔ انھوں نے وہ دینے سے انکار کردیا حتیٰ کے وہ کم ہو کر پانچ سو رہ گئے۔ پھر اس نے ایک خط لکھا اور اس آدمی کو بری کردیا۔ پھر دوبارہ اس سے پانچ سو درہم کا مطالبہ کیا تو وہ دونوں اپنا معاملہ قاضی شریح کے پاس لے کر گئے۔ قاضی نے گواہوں سے کہا : کیا پانچ سو درہم اس آدمی کے پاس ہیں ؟ انھوں نے جواب ہاں میں دیا تو قاضی صاحب نے انھیں واپس لوٹانے کا فیصلہ کیا۔ شیخ فرماتے ہیں : اور ہم کمی کو جائز نہیں مانتے جب کوئی شرط ہو۔