(۱۱۳۴۸) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو مُحَمَّدٍ : الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَلِیمٍ الْمَرْوَزِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُوَجَّہِ أَخْبَرَنَا عَبْدَانُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ أَخْبَرَنَا یُونُسُ بْنُ یَزِیدَ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ قَالَ حَدَّثَنِی ابْنُ کَعْبِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ أَخْبَرَہُ فَذَکَرَہُ بِنَحْوِہِ زَادَ فِی رِوَایَتِہِ قَالَ وَقَالَ لأَبِی لُبَابَۃَ فِی یَتِیمٍ لَہُ خَاصَمَہُ فِی نَخْلَۃٍ فَقُضِی بِہَا لأَبِی لُبَابَۃَ فَبَکَی الْغُلاَمُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لأَبِی لُبَابَۃَ : أَعْطِہِ نَخْلَتَکَ ۔ فَقَالَ : لاَ فَقَالَ : أَعْطِہِ إِیَّاہَا وَلَکَ عَذْقٌ فِی الْجَنَّۃِ ۔ فَقَالَ : لاَ فَسَمِعَ بِذَلِکَ ابْنُ الدَّحْدَاحَۃِ فَقَالَ لأَبِی لُبَابَۃَ : أَتَبِیعُ عِذْقَکَ ذَلِکَ بِحَدِیقَتِی ہَذِہِ فَقَالَ : نَعَمْ ثُمَّ جَائَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ النَّخْلَۃُ الَّتِی سَأَلْتَ لِلْیَتِیمِ إِنْ أَعْطَیْتُہُ أَلِی بِہَا عِذْقٌ فِی الْجَنَّۃِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : نَعَمْ ۔ ثُمَّ قُتِلَ ابْنُ الدَّحْدَاحَۃِ شَہِیدًا یَوْمَ أُحُدٍ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : رُبَّ عِذْقٍ مُذَلَّلٍ لاِبْنِ الدَّحْدَاحَۃِ فِی الْجَنَّۃِ ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدَانَ دُونَ قِصَّۃِ أَبِی لُبَابَۃَ وَکَأَنَّ قِصَّۃَ أَبِی لُبَابَۃَ ذَکَرَہَا الزُّہْرِیُّ مُرْسَلاً۔
فَقَدْ رَوَاہَا شُعَیْبُ بْنُ أَبِی حَمْزَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنِ ابْنِ الْمُسَیَّبِ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- مُرْسَلاً۔ [ضعیف]
(١١٣٤٨) حضرت جابر بن عبداللہ (رض) نے ابو لبابہ کے بارے میں بیان کیا کہ ابو لبابہ کا ایک یتیم کے ساتھ ایک باغ کے بارے میں جھگڑا چل رہا تھا۔ اس باغ کا فیصلہ ابو لبابہ کے حق میں ہوگیا تو وہ غلام (یتیم ) رونے لگا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو لبابہ سے کہا : تم اپنا کھجوروں کا باغ اس یتیم کو دے دو ۔ ابو لبابہ نے انکار کردیا۔ آپنی فرمایا : تو اسے دے دے، تیرے لیے جنت میں باغوں کے خوشے ہوں گے۔ ابو لبابہ نے پھر انکار کردیا۔ ابن دحداحہ (رض) نے یہ سارا قصہ سنا، پھر ابو لبابہ سے کہا : کیا تو اپنا باغ میرے اس باغ کے بدلے میں مجھے فروخت کرے گا ؟ ابو لبابہ نے کہا : ہاں۔ ابن دحداحہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا : آپ جو باغ یتیم کو دینا چاہتے تھے۔ اگر میں دے دوں تو کیا میرے لیے بھی جنت میں خوشے ہوں گے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاں میں جواب دیا۔ پھر ابن دحداحہ احد کے دن شہید ہوگئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کتنے خوشے جنت میں ابو دحداحہ کے لیے لٹکے ہوئے ہیں۔