(۱۱۳۵۵) قَالَ وَحَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِیہِ قَالَ : صُولِحَتِ امْرَأَۃُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ مِنْ نَصِیبِہَا رُبُعِ الثُّمُنِ عَلَی ثَمَانِینَ أَلْفًا۔
وَہَذَا مَحْمُولٌ عَلَی أَنَّہَا کَانَتْ عَارِفَۃً بِمِقْدَارِ نَصِیبِہَا۔
وَقَدْ رَوَی الشَّعْبِیُّ عَنْ شُرَیْحٍ أَنَّہُ قَالَ : أَیُّمَا امْرَأَۃٍ صُولِحَتْ مِنْ ثُمُنِہَا وَلَمْ تُخْبِرْ بِمَا تَرَکَ زَوْجُہَا فَتِلْکَ الرِّیبَۃُ کُلُّہَا۔ [ضعیف]
(١١٣٥٥) (الف) ابو سلمہ اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عبدالرحمن کی بیوی کی اس کے حصے سے صلح کروائی گئی اور یہ اس بات پر محمول ہے کہ وہ اپنے حصے کو جانتی تھیں۔
(ب) شریح سی منقول ہے کہ انھوں نے کہا : جس عورت کی آٹھویں حصے پر صلح کروائی گئی اور اسے علم نہ ہو کہ اس کے خاوند نے کیا چھوڑا ہے تو یہ شک وشبہ والا معاملہ ہے۔