(۱۱۳۵۶) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی سَالِمٌ : أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ إِذَا کَانَ لِلرَّجُلِ عَلَیْہِ الذَّہَبُ أَوِ الْوَرِقُ خَیَّرَہُ حِینَ یَقْضِیہِ أَیُّ الصِّنْفَیْنِ أَحَبُّ إِلَیْکَ ثُمَّ یَقْضِیہِ بِصَرْفِ النَّاسِ أَوْ یَصْرِفُ فَیُقْبِضَہُ فَإِذَا قَبِلَ ذَلِکَ الرَّجُلُ لَمْ یَرَ بِہِ عَبْدُ اللَّہِ بَأْسًا۔ [حسن]
(١١٣٥٦) سالم فرماتے ہیں : جب ابن عمر (رض) پر کسی آدمی کا سونا یا چاندی ہوتی تو وہ اسے اختیا ردے دیتے کہ تو وہ دونوں صنفوں میں سے جو تجھے زیادہ پسند ہے لے لے۔ پھر وہ لوگوں سے مشورہ کر کے جس کا تقاضا کرتا تو وہ اسے دے دیتے۔ جب وہ آدمی اس صنف کو قبول کرلیتا تو عبداللہ اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے۔