(۱۱۳۹۸) فَأَخْبَرَنَاہُ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ یُوسُفَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَلِیٍّ : الْحَسَنُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْجَوْہَرِیُّ الْبَغْدَادِیُّ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ الْحَرْبِیُّ حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ حَدَّثَنَا عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ الْوَلِیدِ الْوَصَّافِیُّ عَنْ عَطِیَّۃَ بْنِ سَعْدٍ الْعَوْفِیُّ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ : أُتِیَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- بِجَنَازَۃٍ لَیُصَلِّی عَلَیْہَا فَتَقَدَّمَ لَیُصَلِّی فَالْتَفَتَ إِلَیْنَا فَقَالَ : ہَلْ عَلَی صَاحِبِکُمْ دَیْنٌ؟ قَالُوا: نَعَمْ قَالَ : ہَلْ تَرَکَ لَہُ مِنْ وَفَائٍ؟ قَالُوا: لاَ قَالَ: صَلُّوا عَلَی صَاحِبِکُمْ۔ قَالَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ: عَلَیَّ دَیْنُہُ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَتَقَدَّمَ فَصَلَّی عَلَیْہِ وَقَالَ: جَزَاکَ اللَّہُ یَا عَلِیُّ خَیْرًا کَمَا فَکَکْتَ رِہَانَ أَخِیکَ مَا مِنْ مُسْلِمٍ فَکَّ رِہَانَ أَخِیہِ إِلاَّ فَکَّ اللَّہُ رِہَانَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔
وَرَوَاہُ عَبْدَۃُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ عَنْ أَبِی نُعَیْمٍ : الْفَضْلِ بْنِ دُکَیْنٍ أَتَمَّ مِنْ ذَلِکَ وَفِیہِ قَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ بَرِئَ مِنْ دِینِہِ وَأَنَا ضَامِنٌ لِمَا عَلَیْہِ۔وَرَوَاہُ زَافِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنِ الْوَصَّافِیِّ فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ أَنَا ضَامِنٌ لِدَیْنِہِ۔ وَالْحَدِیثُ یَدُورُ عَلَی عُبَیْدِ اللَّہِ الْوَصَّافِیِّ وَہُوَ ضَعِیفٌ جِدًّا۔وَقَدْ رُوِیَ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ بِإِسْنَادٍ ضَعِیفٍ۔ [ضعیف]
(١١٣٩٨) حضرت ابو سعید خدری (رض) سے روایت ہے کہ آپ کے پاس ایک جنازہ لایا گیا تاکہ آپ نماز جنازہ پڑھا دیں۔ آپ نے ہماری طرف دیکھا اور کہا : کیا یہ مقروض تو نہیں ہے ؟ انھوں نے کہا : ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : اسے پورا کرنے کے لیے کچھ چھوڑا ہے اس نے ؟ انھوں نے کہا : نہیں۔ آپ نے فرمایا : تم اس کی نماز جنازہ پڑھ لو۔ حضرت علی نے کہا : اللہ کے رسول ! میں اس کے قرض کا ذمہ دار ہوں، آپ آگے ہوئے اور نمازِ جنازہ پڑھائی اور فرمایا : اے علی ! اللہ تجھے بہتر جزادے جس طرح سے تو نے اپنے بھائی سے قرض کا بوجھ ہلکا کیا۔ جو بھی مسلمان اپنے بھائی سے بوجھ ہلکا کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس سے بوجھ ہلکا کریں گے۔