(۱۱۳۹۹) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو طَاہِرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْمُحَمَّدَابَاذِیُّ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْعَلاَئِ الزُّبَیْدِیُّ الْحِمْصِیُّ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ عَیَّاشٍ عَنْ عَطَائِ بْنِ عَجْلاَنَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ الْہَمْدَانِیِّ عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَۃَ عَنْ عَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ قَالَ : کَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِذَا أُتِیَ بِجَنَازَۃٍ لَمْ یَسْأَلْ عَنْ شَیْئٍ مِنْ عَمَلِ الرَّجُلِ إِلاَّ أَنْ یَسْأَلَ عَنْ دَیْنِہِ فَإِنْ قِیلَ عَلَیْہِ دَیْنٌ کَفَّ عَنِ الصَّلاَۃِ عَلَیْہِ وَإِنْ قِیلَ لَیْسَ عَلَیْہِ دَیْنٌ صَلَّی عَلَیْہِ فَأُتِیَ بِجَنَازَۃٍ فَلَمَّا قَامَ سَأَلَ أَصْحَابَہُ : ہَلْ عَلَی صَاحِبِکُمْ مِنْ دَیْنٍ؟ ۔ قَالُوا : عَلَیْہِ دِینَارَانِ دَیْنٌ فَعَدَلَ عَنْہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : صَلُّوا عَلَی صَاحِبِکُمْ ۔ فَقَالَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : یَا نَبِیَّ اللَّہِ ہُمَا عَلَیَّ بَرِئَ مِنْہُمَا فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَصَلَّی عَلَیْہِ ثُمَّ قَالَ : یَا عَلِیُّ جَزَاکَ اللَّہُ خَیْرًا فَکَّ اللَّہُ رِہَانَکَ کَمَا فَکَکْتَ رِہَانَ أَخِیکِ إِنَّہُ لَیْسَ مِنْ مَیِّتٍ یَمُوتُ وَعَلَیْہِ دَیْنٌ إِلاَّ وَہُوَ مُرْتَہِنٌ بِدَیْنِہِ فَمَنْ فَکَّ رِہَانَ مَیِّتٍ فَکَّ اللَّہُ رِہَانَہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ۔ فَقَالَ بَعْضُہُمْ : ہَذَا لِعَلِیٍّ خَاصَّۃً أَمْ لِلْمُسْلِمِینَ عَامَّۃً فَقَالَ : لاَ بَلْ لِلْمُسْلِمِینَ عَامَّۃً۔
(ج) عَطَائُ بْنُ عَجْلاَنَ ضَعِیفٌ وَالرِّوَایَاتُ فِی تَحَمُّلِ أَبِی قَتَادَۃَ دَیْنَ الْمَیِّتِ أَصَحُّ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔وَأَمَّا حَدِیثُ الْحَمَالَۃِ الَّتِی احْتَجَّ بِہَا الْمُزَنِیُّ۔ [ضعیف]
(١١٣٩٩) حضرت علی بن ابی طالب سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کوئی جنازہ لایاجاتا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کے بارے میں صرف یہ سوال کرتے کہ کیا یہمقروض تو نہیں تھا۔ پس اگر کہا جاتا : ہاں تو آپ جنازہ پڑھانے سے رک جاتے۔ اگر کہا جاتا : نہیں تو آپ جنازہ پڑھا دیتے۔ پس ایک جنازہ لایا گیا، آپ کھڑے ہوئے اور اس کے ساتھیوں سے پوچھا : کیا تمہارے اس بھائی پر قرض تو نہیں تھا ؟ انھوں نے کہا : اس پر دو دینار قرض کے ہیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہٹ گئے اور فرمایا : تم اس کی نماز جنازہ پڑھ لو۔ حضرت علی نے کہا : اے اللہ کے رسول ! وہ دونوں میرے ذمہ ہیں اور یہ میت اس سے بری ہے۔ آپ آگے ہوئے اور نماز جنازہ پڑھائی اور فرمایا : اے علی ! اللہ تجھے بہتر جزادے۔ اللہ تعالیٰ تیرا بوجھ ہلکا کرے جس طرح تو نے اپنے بھائی کا قرض والا بوجھ ہلکا کیا ہے۔ جو کوئی فوت ہو اور اس پر قرض ہو تو وہ اس قرض کے ساتھ گروی رکھ دیا جاتا ہے۔ پس جس نے کسی میت کا قرض اتارا اللہ اس سے قیامت کے دن بوجھ اتاریں گے۔ بعض صحابہ نے کہا : کیا یہ علی کے لیے خاص ہے یا مسلمانوں کے لیے عام ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں بلکہ یہ تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔