(۱۱۴۰۱) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الصَّفَّارُ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْبِرْتِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِیدِ الطَّیَالِسِیُّ حَدَّثَنَا زَائِدَۃُ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیْلٍ قَالَ قَالَ جَابِرٌ : تُوُفِّیَ رَجُلٌ فَغَسَّلْنَاہُ وَکَفَّنَّاہُ ثُمَّ أَتَیْنَا بِہِ النَّبِیَّ -ﷺ- لَیُصَلِّیَ عَلَیْہِ فَتَخَطَّی خُطًی ثُمَّ قَالَ : عَلَیْہِ دَیْنٌ؟ ۔ قُلْنَا: نَعَمْ دِینَارَانِ قَالَ فَانْصَرَفَ فَتَحَمَّلَہُمَا أَبُو قَتَادَۃَ فَأَتَیْنَاہُ فَقَالَ أَبُو قَتَادَۃَ الدِّینَارَانِ عَلَیَّ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : حَقُّ الْغَرِیمِ وَبَرِئَ مِنْہُمَا الْمَیِّتُ ۔ قَالَ : نَعَمْ قَالَ فَصَلَّی عَلَیْہِ فَقَالَ بَعْدَ ذَلِکَ بِیَوْمٍ : مَا فَعَلَ الدِّینَارَانِ ۔ فَقَالَ : إِنَّمَا مَاتَ أَمْسِ فَعَادَ عَلَیْہِ کَالْغَدِ فَقَالَ : قَدْ قَضَیْتُہُمَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : الآنَ بَرَّدْتَ عَلَیْہِ جِلْدَہُ ۔
فَأَخْبَرَ -ﷺ- فِی ہَذِہِ الرِّوَایَۃِ أَنَّہُ بِالْقَضَائِ بَرَدَ عَلَیْہِ جِلْدُہُ وَقَوْلُہُ : حَقُّ الْغَرِیمِ وَبَرِئَ مِنْہُمَا الْمَیِّتُ ۔ إِنْ کَانَ حَفِظَہُ ابْنُ عَقِیلٍ فَإِنَّمَا عَنَی بِہِ وَاللَّہُ أَعْلَمُ لِلْغَرِیمِ مُطَالَبَتُکَ بِہِمَا وَحْدَکَ إِنْ شَائَ کَمَا لَوْ کَانَ لَہُ عَلَیْکَ حَقٌّ مِنْ وَجْہٍ آخَرَ وَالْمَیِّتُ مِنْہُ بَرِیئٌ کَانَ لَہُ مُطَالَبَتُکَ بِہِ وَحْدَکَ إِنْ شَائَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
(١١٤٠١) (الف) عبداللہ بن محمد بن عقیل فرماتے ہیں کہ جابر (رض) نے فرمایا : ایک آدمی فوت ہوگیا، ہم نے اسے غسل دیا اور کفن دیا۔ پھر ہم اسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آئے تاکہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھا دیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کچھ قدم چلے اور پوچھا : کیا اس پر قرض ہے ؟ ہم نے کہا : ہاں دو دینار ہیں۔ آپ واپس پھرگئے۔ ابو قتادہ نے دو دینار اپنے ذمہ لے لیے۔ پھر ہم آپ کے پاس آئے۔ ابو قتادہ نے کہا : دونوں دینار میرے ذمہ ہیں۔ آپ نے فرمایا : قرض کی ذمہ داری حق ہے اور میت ان دیناروں سے بری ہے۔ اس نے کہا : ہاں، پھر آپ نے نماز جنازہ پڑھائی۔ پھر ایک دن اس کے بعد ارشاد فرمایا : کیا کیا ان دو دیناروں کا ؟ آپ نے فرمایا : وہ فوت ہوگیا ہے کل اور وہ آئندہ کل اس پر لوٹ آئیں گے۔ قتادہ نے کہا : میں نے وہ دونوں ادا کردیے تھے، آپ نے فرمایا : تو نے اس کے چمڑے کو اس پر ٹھنڈا کردیا ہے۔
(ب) ایک روایت میں ہے کہ قضاکیساتھ اس کی جلد اس پر ٹھنڈی ہوگئی۔