(۱۱۴۰۶) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی دَاوُدَ الْمُنَادِی حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا عِیسَی بْنُ صَدَقَۃَ قَالَ دَخَلْتُ أَنَا وَأَبِی وَإِمَامُ الْحَیِّ عَلَی أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ فَقَالُوا حَدِّثْنَا حَدِیثًا سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- یَنْفَعُنَا اللَّہُ بِہِ قَالَ : مَاتَ رَجُلٌ فَجَائَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- فَقُلْنَا : یَا رَسُولَ اللَّہِ تُصَلِّی عَلَیْہِ؟ فَقَالَ : ہَلْ عَلَیْہِ دَیْنٌ؟ ۔ قُلْنَا : نَعَمْ قَالَ : أَفَیَضْمَنُہُ مِنْکُمْ أَحَدٌ حَتَّی أَصَلِّیَ عَلَیْہِ؟ ۔ قَالُوا : لاَ قَالَ : فَمَا یَنْفَعُکُمْ أَنْ أَصَلِّیَ عَلَی رَجُلٍ مُرْتَہَنٍ فِی قَبْرِہِ حَتَّی یَبْعَثَہُ اللَّہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُحَاسِبَہُ ۔وَرَوَاہُ أَبُو الْوَلِیدِ الطَّیَالِسِیُّ عَنْ عِیسَی فَأَدْخَلَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَبْدَ الْحَمِیدِ بْنَ أَبِی أُمَیَّۃَ۔ [ضعیف]
(١١٤٠٦) عیسیٰ بن صدقہ فرماتے ہیں : میں اور میرے والد اور محلے کے امام انس بن مالک (رض) کے پاس گئے اور کہا کہ ہمیں حدیث بیان کریں جو آپ نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہو، اللہ اسے ہمارے لیے نفع کا باعث بنائے۔ انس نے فرمایا : ایک آدمی فوت ہوگیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک آدمی آیا، اس نے خبر دی۔ ہم نے کہا : کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس کی نماز جنازہ پڑھائیں گے ؟ آپ نے فرمایا : کیا اس پر کوئی قرض ہے ؟ ہم نے کہا : ہاں۔ آپ نے فرمایا : تم میں اس کی کوئی ضمانت دے گا تاکہ میں نماز جنازہ پڑھاؤں۔ انھوں نے نہ میں جواب دیا۔ آپ نے فرمایا : پس نہیں نفع دے گا تم کو کہ میں کسی آدمی کی نماز جنازہ پڑھاؤں جسے اس کی قبر میں رہن کے طور پر رکھا جارہاہو یہاں تک کہ اللہ اسے قیامت کے دن اٹھائے اور اس سے حساب کتاب کیا جائے۔