hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 11425

.

سنن البيهقي

11425
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۴۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ جُرَیْجٍ عَنْ عَطَائٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہَ وَعَنْ طَاوُسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- صَبِیحَۃَ رَابِعَۃٍ مِنْ ذِی الْحِجَّۃِ مُہِلِّینَ بِالْحَجِّ لاَ یُخَالِطُہُ شَیْئٌ فَلَمَّا قَدِمْنَا أَمَرَنَا فَجَعَلْنَاہَا عُمْرَۃً بِأَنْ نَحِلَّ إِلَی نِسَائِنَا فَفَشَتْ فِی ذَلِکَ الْمَقَالَۃُ قَالَ عَطَائٌ قَالَ جَابِرٌ : فَیَرُوحُ أَحَدُنَا إِلَی مِنًی وَذَکَرُہُ یَقْطُرُ مَنِیًّا قَالَ جَابِرٌ فَبَلَغَ ذَلِکَ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَامَ خَطِیبًا فَقَالَ : بَلَغَنِی أَنَّ أَقْوَامًا یَقُولُونَ کَذَا وَکَذَا وَاللَّہِ لأَنَّا أَتْقَی مِنْہُمْ وَلَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنْ أَمْرِی مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا أَہْدَیْتُ وَلَوْلاَ أَنَّ مَعِیَ الْہَدْیَ لأَحْلَلْتُ۔ قَالَ : فَقَامَ سُرَاقَۃُ بْنُ مَالِکِ بْنِ جُعْشُمٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ ہِیَ لَنَا أَمْ لِلأَبَدِ فَقَالَ: لاَ بَلْ لِلأَبَدِ۔ قَالَ: وَجَائَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ: أَحَدُہُمَا یَقُولُ لَبَّیْکَ بِمَا أَہْلَّ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- وَقَالَ الآخَرُ لَبَّیْکَ بِحَجَّۃِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَأَمَرَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَنْ یُقِیمَ عَلَی إِحْرَامِہِ وَأَشْرَکَہُ فِی الْہَدْیِ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی النُّعْمَانِ۔ [بخاری ۱۵۶۴، مسلم ۱۲۴۰]
(١١٤٢٠) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) چوتھی ذی الحجہ کی صبح کو حج کا تلبیہ کہتے ہوئے اور اس کے ساتھ کوئی اور چیز نہ ملاتے ہوئے داخل ہوئے۔ جب ہم مکہ پہنچے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حکم سے ہم نے اپنے حج کو عمرہ کر ڈالا اور ہماری بیویاں بھی ہمارے لیے حلال ہوگئیں۔ اس پر لوگوں میں باتیں ہونے لگیں۔
عطاء فرماتے ہیں : جابر (رض) نے فرمایا کہ کچھ لوگ کہنے لگے : کیا ہم میں سے کوئی منیٰ اس طرح جائے گا کہ اس کی منی اس کے ذکر سے ٹپک رہی ہو۔ یہ بات نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک پہنچی تو آپ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا : مجھے معلوم ہوا ہے کہ بعض لوگ اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں، اللہ کی قسم ! میں ان سے زیادہ اللہ سے ڈرنے ولا ہوں، اگر مجھے وہ بات پہلے ہی معلوم ہوتی جواب معلوم ہوئی ہے تو میں قربانی کے جانور اپنے ساتھ نہ لاتا اور اگر میرے ساتھ قربانی کے جانور نہ ہوتے تو میں بھی احرام کھول دیتا۔ اس پر سراقہ بن جعشم کھڑے ہوئے اور کہا : یا رسول اللہ ! کیا یہ حکم خاص ہمارے لیے ہے یا ہمیشہ کے لیے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے۔ راوی کہتے ہیں : علی بن ابی طالب آئے۔ طاؤس اور عطار میں سے ایک کہتا ہے کہ انھوں نے لَبَّیْکَ بِمَا أَہْلَّ بِہِ رَسُولُ اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہا اور دوسرا کہتا ہے : انھوں نے کہا : لَبَّیْکَ بِحَجَّۃِ رَسُولِ اللَّہِ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں حکم دیا کہ وہ اپنے احرام پر قائم رہیں اور انھیں اپنی قربانی میں شریک کرلیا۔