(۱۱۴۳۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِبْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ فِیمَا أَظُنُّ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ حَبِیبٍ مَوْلَی عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ عَنْ أَبِی مُرَاوِحٍ عَنْ أَبِی ذَرٍّ قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَسَأَلَہُ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَیُّ الأَعْمَالِ أَفْضَلُ قَالَ : إِیمَانٌ بِاللَّہِ وَجِہَادٌ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔ قَالَ : فَأَیُّ الْعَتَاقَۃِ أَفْضَلُ؟ قَالَ : أَنْفَسُہَا ۔ قَالَ : أَفَرَأَیْتَ إِنْ لَمْ أَجِدْ قَالَ : فَتُعِینُ الصَّانِعَ وَتَصْنَعُ لأَخْرَقَ ۔ قَالَ : أَفَرَأَیْتَ إِنْ لَمْ أَسْتَطِعْ؟ قَالَ : تَدَعُ النَّاسَ مِنْ شَرِّکَ فَإِنَّہَا صَدَقَۃٌ تَصَدَّقُ بِہَا عَلَی نَفْسِکَ ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ رَافِعٍ وَعَبْدِ بْنِ حُمَیْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ وَأَخْرَجَاہُ مِنْ حَدِیثِ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ أَبِیہِ۔ [بخاری ۲۵۱۸، مسلم ۸۴]
(١١٤٣٩) حضرت ابو ذر (رض) سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سوال کیا : کون سا عمل افضل ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ پر ایمان لانا اور اس کے راستے میں جہاد کرنا ، اس نے پوچھا : کون سی گردن آزاد کرنا افضل ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جو مالک کی نظر میں زیادہ پسندیدہ ہو۔ اس نے کہا : آپ کا کیا خیال ہے اگر میں ایسا نہ پاؤں ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کسی کاریگر کی مدد کر یا کسی اخرق کی۔ اس نے کہا : اگر میں اس کی بھی طاقت نہ رکھوں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : لوگوں کو اپنے شر سے محفوظ کر دے، یہ بھی صدقہ ہے جسے تم خود اپنے اوپر کرو گے۔