(۱۱۴۶۳) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ الْقُرْقُوبِیُّ بِہَمَذَانَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ أَخْبَرَنَا شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَائِشَۃَ أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ قَالَتْ : کَانَ عُتْبَۃُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ عَہِدَ إِلَی أَخِیہِ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ أَنْ یَقْبِضَ إِلَیْہِ ابْنَ وَلِیدَۃِ زَمْعَۃَ قَالَ عُتْبَۃُ إِنَّہُ ابْنِی فَلَمَّا قَدِمَ النَّبِیُّ -ﷺ- زَمَنَ الْفَتْحِ أَخَذَ سَعْدٌ ابْنَ وَلِیدَۃِ زَمْعَۃَ فَأَقْبَلَ بِہِ إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَأَقْبَلَ مَعَہُ عَبْدُ بْنُ زَمْعَۃَ فَقَالَ سَعْدٌ: یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَذَا ابْنُ أَخِی عَہِدَ إِلَیَّ أَنَّہُ ابْنُہُ قَالَ عَبْدُ ابْنُ زَمْعَۃَ: یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَذَا أَخِی ابْنُ زَمْعَۃَوَ وُلِدَ عَلَی فِرَاشِہِ فَنَظَرَ النَّبِیُّ -ﷺ- إِلَی ابْنِ وَلِیدَۃِ زَمْعَۃَ فَإِذَا ہُوَ أَشْبَہُ النَّاسِ بِعُتْبَۃَ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ-: ہُوَ لَکَ یَا عَبْدُ بْنَ زَمْعَۃَ مِنْ أَجْلِ أَنَّہُ وُلِدَ عَلَی فِرَاشِ أَبِیہِ۔ وَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : احْتَجِبِی مِنْہُ یَا سَوْدَۃُ بِنْتَ زَمْعَۃَ۔ لِمَا رَأَی مِنْ شَبَہِہِ بِعُتْبَۃَ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ وَسَوْدَۃُ بِنْتُ زَمْعَۃَ زَوْجُ النَّبِیِّ -ﷺ-۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ الْحَکَمُ بْنُ نَافِعٍ۔[بخاری ۲۰۵۳، مسلم ۱۴۵۷]
(١١٤٦٣) ام المومنین حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں : عتبہ بن ابی وقاص نے اپنے بھائی سعد بن ابی وقاص کو وصیت کی کہ زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کو لے لینا۔ عتبہ نے کہا کہ وہ میرا بیٹا ہے۔ جب فتح مکہ کے موقع پر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو سعد نے زمعہ کی لو نڈی کے بیٹے کو پکڑا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لے آئے۔ عبد بن زمعہ بھی آگئے۔ سعد نے کہا : یا رسول اللہ ! میرے بھائی کا بیٹا ہے، اس نے مجھے وصیت کی تھی کہ یہ اس کا بیٹا ہے۔ عبد بن زمعہ نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) یہ میرا بھائی ہے اور زمعہ کا بیٹا ہے اور اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کی طرف دیکھا، وہ عتبہ بن ابی وقاص کے مشابہ تھا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ تیرے پاس رہے گا اے عبد بن زمعہ ! اس لیے کہ وہ اپنے باپ کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے سودہ بنت زمعہ ! اس سے پردہ کیا کر، عتبہ بن ابی وقاص کے مشابہ ہونے کی وجہ سے اور سودہ بنت زمعہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بیوی تھی۔