(۱۱۶) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ أَخْبَرَنِی أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ النَّسَوِیُّ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ شَاکِرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِیلَ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُدْرِکٍ قَالَ حَدَّثَنِی یَحْیَی بْنُ حَمَّادٍ أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَۃَ عَنْ عَاصِمٍ الأَحْوَلِ قَالَ: رَأَیْتُ قَدَحَ النَّبِیِّ -ﷺ-عِنْدَ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ -وَکَانَ قَدْ انْصَدَعَ فَسَلْسَلَہُ بِفِضَّۃٍ قَالَ وَہُوَ قَدَحٌ جَیِّدٌ عَرِیضٌ مِنْ نُضَارٍ -قَالَ أَنَسٌ: لَقَدْ سَقَیْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ-فِی ہَذَا الْقَدَحِ أَکْثَرَ مِنْ کَذَا وَکَذَا۔
قَالَ وَقَالَ ابْنُ سِیرِینَ: أَنَّہُ کَانَ فِیہِ حَلْقَۃٌ مِنْ حَدِیدٍ فَأَرَادَ أَنَسٌ أَنْ یَجْعَلَ مَکَانَہَا حَلْقَۃً مِنْ ذَہَبٍ أَوْ فِضَّۃٍ فَقَالَ لَہُ أَبُو طَلْحَۃَ:لاَ تُغَیِّرَنَّ شَیْئًا صَنَعَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-فَتَرَکَہُ۔
أَخْرَجَہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ ہَکَذَا۔ [ صحیح۔ أخرجہ البخاری ۵۳۱۵]
(١١٦) عاصم احول کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا انس بن مالک (رض) کے پاس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا پیالہ دیکھا وہ ٹوٹا ہوا تھا، انھوں نے اس کو چاندی کی تار کے ساتھ جوڑ دیا۔ عاصم کہتے ہیں : وہ پیالہ بہت عمدہ تھا اور خالص جھاؤ کا بنا ہوا تھا، سید نا انس (رض) فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اس پیالے میں اکثر دفعہ پانی پلایا۔
(ب) حضرت انس بن سیرین کہتے ہیں : اس پیالہ پر لوہے کا کڑا تھا، حضرت انس (رض) نے ارادہ کیا کہ اس کی جگہ سونے یا چاندی کا حلقہ لگا دیں تو ابو طلحہ (رض) نے ان سے کہا : جو کام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کیا ہے اس کو تبدیل نہ کر اس کو رہنے دے۔