(۱۱۵۲۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِی بَکْرٍ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ عَنْ سُفْیَانَ قَالَ حَدَّثَنِی فُلَیْتٌ عَنْ جَسْرَۃَ بِنْتِ دِجَاجَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : مَا رَأَیْتُ صَانِعَۃَ طَعَامٍ مِثْلَ صَفِیَّۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا بَعَثَتْ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِإِنَائٍ فِیہِ طَعَامٌ فَضَرَبْتُہُ بِیَدِی فَکَسَرْتُہُ فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ مَا کَفَّارَۃُ ہَذَا؟ قَالَ : إِنَائٌ مَکَانَ إِنَائٍ وَطَعَامٌ مَکَانَ طَعَامٍ ۔ فُلَیْتٌ الْعَامِرِیُّ وَجَسْرَۃُ بِنْتُ دِجَاجَۃَ فِیہِمَا نَظَرٌ ثُمَّ تَأْوِیلُ الْخَبَرِ مَا مَضَی وَبِاللَّہِ التَّوْفِیقُ۔
وَرُوِّینَا عَنِ الشَّعْبِیِّ أَنَّہُ قَالَ فِی الرَّجُلِ تُسْتَہْلَکُ لَہُ الْحِنْطَۃُ : أَنَّ عَلَی صَاحِبِہِ لَہُ طَعَامًا مِثْلَ طَعَامِہِ وَکِیلاً مِثْلَ کَیْلِہِ۔ [ضعیف]
(١١٥٢٣) حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ میں نے صفیہ جیسا کھانا کسی کو بناتے نہیں دیکھا، اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک برتن میں کھانا بنا کر بھیجا۔ میں نے اپنا ہاتھ مارا اور اسے توڑدیا۔ پھر میں نے پوچھا : یا رسول اللہ ! اس کا کفارہ کیا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : برتن کے بدلے برتن اور کھانے کے بدلے کھانا۔