(۱۱۵۲۵) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا یَعْقُوبُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ الْحَسَنِ حَدَّثَنِی عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی سَعِیدٍ قَالَ سَمِعْتُ عُمَارَۃَ بْنَ حَارِثَۃَ الضَّمْرِیَّ یُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ یَثْرِبِیِّ الضَّمْرِیِّ قَالَ : شَہِدْتُ خُطْبَۃَ النَّبِیِّ -ﷺ- بِمِنًی فَکَانَ فِیمَا خَطَبَ بِہِ قَالَ : وَلاَ یَحِلُّ لأَحَدٍ مِنْ مَالِ أَخِیہِ إِلاَّ مَا طَابَتْ بِہِ نَفْسُہُ ۔ فَلَمَّا سَمِعَہُ قَالَ ذَلِکَ قَالَ یَا رَسُولَ اللَّہِ : أَرَأَیْتَ لَوْ لَقِیتُ غَنَمَ ابْنِ عَمِّی فَأَخَذْتُ مِنْہُ شَاۃً فَاجْتَزَرْتُہَا فَعَلَیَّ فِی ذَلِکَ شَیْئٌ؟ قَالَ: إِنْ لَقِیتَہَا نَعْجَۃً تَحْمِلُ شَفْرَۃً وَزِنَادًا بِخَبْتِ الْجَمِیشِ فَلاَ تَمَسَّہَا۔ قِیلَ: ہِیَ أَرْضٌ بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْجَارِ أَرْضٌ لَیْسَ بِہَا أَنِیسٌ۔ [ضعیف]
(١١٥٢٥) حضرت عمرو بن یثربی ضمری سے روایت ہے کہ میں منیٰ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے خطبہ میں حاضر ہوا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خطبہ میں ارشاد فرمایا : کسی کے لیے اپنے بھائی کا مال حلال نہیں ہے مگر جو وہ خوشی سے دے۔ جب اس (راوی ) نے سنا تو اس نے کہا : یا رسول اللہ ! آپ کا کیا خیال ہے اگر میں اپنے چچا زاد کی بکریاں پاؤں اور میں ایک بکری پکڑلوں اور اسے ذبح کرلوں تو مجھ پر کچھ ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اگر تو دنبی کو مثلاخبتِ جمیش میں کسی ویران زمین میں پائے اور تو چھری یا کوئی ازار اٹھائے تو بھی اس کو نہ چھونا۔ کہا گیا کہ وہ مکہ اور جار کے درمیان ایک ویران جگہ ہے جہاں کوئی نہیں رہتا۔