(۱۱۵۸۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبْدُوسٍ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ الْمَدِینِیِّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ قَالَ قَالَ إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَیْسَرَۃَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ الشَّرِیدِ یَقُولُ : وَضَعَ الْمِسْوَرُ بْنُ مَخْرَمَۃَ یَدَہُ ہَذِہِ عَلَی مَنْکِبِی ہَذَا أَوْ ہَذَا فَانْطَلَقْتُ مَعَہُ حَتَّی أَتَیْنَا سَعْدًا فَجَلَسْنَا إِلَیْہِ فَجَائَ أَبُو رَافِعٍ فَقَالَ لِلْمِسْوَرِ : أَلاَ تَأْمُرُ ہَذَا أَنْ یَشْتَرِیَ مِنِّی بَیْتَیَّ اللَّذَیْنِ مِنْ دَارِہِ فَقَالَ لَہُ سَعْدٌ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : وَاللَّہِ لاَ أَزِیدُکَ عَلَی أَرْبَعِمِائَۃِ دِینَارٍ إِمَّا مُقَطَّعَۃً وَإِمَّا مُنَجَّمَۃً۔ فَقَالَ أَبُو رَافِعٍ : سُبْحَانَ اللَّہِ لَقَدْ مَنَعْتُہُمَا مِنْ خَمْسِمِائَۃٍ نَقْدًا فَلَوْلاَ أَنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِہِ مَا بِعْتُکَ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَلِیِّ بْنِ الْمَدِینِیِّ وَأَخْرَجَہُ أَیْضًا مِنْ حَدِیثِ ابْنِ جُرَیْجٍ عَنْ إِبْرَاہِیمَ بْنِ مَیْسَرَۃَ بِمَعْنَاہُ۔
وَفِی سِیَاقِ ہَذِہِ الْقَصَّۃِ دِلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ الْخَبَرَ وَرَدَ فِی غَیْرِ الشُّفْعَۃِ وَإِنَّہُ إِنَّمَا أَرَادَ بِہِ أَنَّہُ أَحَقُّ بِأَنْ یُعْرَضَ عَلَیْہِ مِنْ غَیْرِہِ۔وَإِنْ أَرَادَ بِہِ الشُّفْعَۃَ فَقَدْ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ قَالَ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَبُو رَافِعٍ فِیمَا رُوِیَ عَنْہُ مُتَطَوِّعٌ بِمَا صَنَعَ وَقَوْلُ النَّبِیِّ -ﷺ- : الْجَارُ أَحَقُّ بِسَقَبِہِ ۔ لاَ یَحْتَمِلُ إِلاَّ مَعْنَیَیْنِ لاَ ثَالِثَ لَہُمَا أَنْ یَکُونَ أَرَادَ أَنَّ الشُّفْعَۃَ لِکُلِّ جَارٍ أَوْ أَرَادَ بَعْضَ الْجِیرَانِ دُونَ بَعْضٍ وَقَدْ ثَبُتَ عَنْ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- : أَنْ لاَ شُفْعَۃَ فِیمَا قُسِمَ ۔ فَدَلَّ عَلَی أَنَّ الشُّفْعَۃَ لِلْجَارِ الَّذِی لَمْ یُقَاسِمْ دُونَ الْجَارِ الْمَقَاسِمِ۔
قَالَ الشَّیْخُ : وَعَلَی ہَذَا یُحْمَلُ مَا : [حسن]
(١١٥٨٠) حضرت عمرو بن شرید فرماتے ہیں : مسوربن مخرمہ (رض) نے اپنا ہاتھ میرے کندے پر رکھا، میں اس کے ساتھ چلا یہاں تک کہ ہم سعد کے پاس آئے۔ ہم اس کے پاس بیٹھ گئے۔ ابو رافع آئے تو انھوں نے مسور سے کہا : کیا آپ اس کو نہیں کہتے کہ مجھ سے میرے دونوں گھرخرید لے اپنے گھر کے لیے۔ حضرت سعد نے کہا : اللہ کی قسم ! میں چار سو درہم سے زیادہ نہ دوں گا اور قسطوں پر دوں گا۔ ابو رافع نے کہا : سبحان اللہ ! میں نے نقد پانچ سو درہم میں نہیں دیا۔ اگر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نہ سنا ہوتا کہ ہمسایہ اپنے پڑوس کا زیادہ حق دار ہے تو میں تجھے کبھی فروخت نہ کرتا۔
اس واقعہ کی روشنی میں دلیل ہے کہ خبر شفعہ کے علاوہ میں وارد ہوئی ہے اور اس نے ارادہ کیا کہ زیادہ حق اس کے پڑوسی کا ہے کہ اسے پیش کیا جائے اور آپ کا فرمان کہ ہمسایہ اپنے پڑوس کا زیادہ حق دار ہے، اس کے دو معنی ہیں، تیسرا کوئی معنی نہیں ہے کہ آپ کا ارادہ تھا کہ حق شفعہ ہمسایہ کے لیے ہے یا آپ کا ارادہ تھا کہ حق شفعہ بعض ہمسایوں کے لیے ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ثابت ہے کہ اس چیز میں شفعہ نہیں جو تقسیم کردی جائے۔ یہ دلالت کرتا ہے کہ شفعہ اس ہمسائے کے لیے ہے جو تقسیم نہ کرے اور جو تقسیم کر دے اس میں حقِ شفعہ نہیں۔