(۱۱۶۱۷) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَأَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا ہِلاَلُ بْنُ الْعَلاَئِ الرَّقِّیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّہِ بْنُ أَبِی بَکْرِ الْعَتَکِیُّ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ زَیْدٍ حَدَّثَنَا الزُّبَیْرُ بْنُ الْخِرِّیتِ عَنْ أَبِی لَبِیدٍ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ الْبَارِقِیِّ قَالَ : أَعْطَانِی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- دِینَارًا فَقَالَ : اشْتَرِ لَنَا بِہِ شَاۃً ۔ قَالَ فَانْطَلَقْتُ فَاشْتَرَیْتُ شَاتَیْنِ بِدِینَارٍ فَلَقِیَنِی رَجُلٌ فِی الطَّرِیقِ فَسَاوَمَنِی بِشَاۃٍ فَبِعْتُہَا بِدِینَارٍ فَأَتَیْتُ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقُلْتُ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہَذَا دِینَارُکُمْ وَہَذِہِ شَاتُکُمْ قَالَ لنَّبِیُّ -ﷺ- : وَصَنَعْتَ کَیْفَ؟ ۔ قَالَ فَأَخْبَرَ فَقَالَ : اللَّہُمَّ بَارِکْ لَہُ فِی صَفْقَۃِ یَمِینِہِ ۔ قَالَ فَقَالَ : إِنِّی لأَقُومُ فِی الْکُنَاسَۃِ بِالْکُوفَۃِ فَمَا أَرْجِعُ إِلَی أَہْلِی حَتَّی أَرْبَحَ أَرْبَعِینَ أَلْفًا۔
رَوَاہُ جَمَاعَۃٌ عَنْ سَعِیدِ بْنِ زَیْدٍ وَہُوَ أَخُو حَمَّادِ بْنِ زَیْدٍ وَلَیْسَ بِالْقَوِیِّ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔[صحیح۔ ترمذی ۱۲۵۸]
(١١٦١٧) عروہ بن ابی جعد بارقی فرماتے ہیں : مجھے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک دینار دیا اور فرمایا : ہمارے لیے ایک بکری خرید لاؤ۔ فرماتے ہیں : میں گیا، میں نے ایک دینار سے دو بکریاں خرید لیں۔ مجھے ایک آدمی راستے میں ملا، اس نے مجھ سے ایک بکری کا سودا کیا۔ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا۔ میں نے کہا : یہ آپ کا دینار اور یہ آپ کی بکری۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : یہ کیسے کیا ؟ آپ کو بتایا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دعا کی : اے اللہ ! اس کے سودے میں برکت ڈال۔ عروہ فرماتے ہیں : میں کوفہ کے کوڑے کے ڈھیر پر کھڑا ہوجاتا اور جب تک چالیس ہزار نفع نہ کما لیتا اس وقت تک گھر نہ آتا تھا۔