(۱۱۶۲۹) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ الْفَضْلِ الْقَطَّانُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا أَبُو سَہْلِ بْنُ زِیَادٍ الْقَطَّانُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّی حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ سُفْیَانَ أَخْبَرَنَا صَالِحٌ وَہُوَ ابْنُ أَبِی الأَخْضَرِ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ : لَمَّا افْتَتَحَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- خَیْبَرَ دَعَا یَہُودًا فَقَالَ : نُعْطِیکُمْ نِصْفَ الثَّمَرِ عَلَی أَنْ تَعْمَلُوہَا أُقِرُّکُمْ مَا أَقَرَّکُمُ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ ۔ قَالَ فَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَبْعَثُ عَبْدَ اللَّہِ یَخْرُصُہَا ثُمَّ یُخَیِّرُہُمْ أَنْ یَأْخُذُوہَا أَوْ یَتْرُکُوہَا وَإِنَّ الْیَہُودَ أَتَوْا رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فِی بَعْضِ ذَلِکَ فَاشْتَکُوا إِلَیْہِ فَدَعَا عَبْدَ اللَّہِ بْنَ رَوَاحَۃَ فَذَکَرَ لَہُ مَا ذَکَرُوا فَقَالَ عَبْدُ اللَّہِ : یَا رَسُولَ اللَّہِ ہُمْ بِالْخِیَارِ إِنْ شَائُ وا أَخَذُوہَا وَإِنْ تَرَکُوہَا أَخَذْنَاہَا فَرَضِیَتِ الْیَہُودُ وَقَالَتْ : بِہَذَا قَامَتِ السَّمَوَاتُ وَالأَرْضُ ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ فِی مَرَضِہِ الَّذِی تُوُفِّیَ فِیہِ : لاَ یَجْتَمِعُ فِی جَزِیرَۃِ الْعَرَبِ دِینَانِ ۔ قَالَ : فَلَمَّا أُنْہِیَ ذَلِکَ إِلَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَرْسَلَ إِلَی یَہُودِ خَیْبَرَ فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- عَامَلَکُمْ عَلَی ہَذِہِ الأَمْوَالِ وَشَرَطَ لَکُمْ أَنْ یُقِرَّکُمْ یَعْنِی مَا أَقَرَّکُمُ اللَّہُ وَقَدْ أَذِنَ اللَّہُ عَزَّ وَجَلَّ فِی إِجْلاَئِکُمْ حِینَ عَہِدَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- مَا عَہِدَ فَأَجْلاَہُمْ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ کُلَّ یَہُودِیٍّ وَنَصْرَانِیٍّ فِی أَرْضِ الْحِجَازِ ثُمَّ قَسَمَہَا بَیْنَ أَہْلِ الْحُدَیْبِیَۃِ۔ [منکر الاسناد]
(١١٦٢٩) حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب خیبر فتح کیا تو یہودیوں کو بلایا اور فرمایا : ہم تم کو پھلوں کا نصف دیں گے اس شرط پر کہ تم اس میں کام کرو گے۔ میں تمہیں ٹھہراتا ہوں جیسا کہ اللہ نے تم کو ٹھہرایا ہے۔ ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ابن رواحہ کو بھیجا کرتے تھے، وہ اندازہ لگاتے، پھر انھیں اختیار دیتے کہ اسے رکھ لیں یا چھوڑ دیں اور یہودی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے۔ انھوں نے شکایت کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابن رواحہ کو بلایا اور بتایا جو انھوں نے بیان کیا تھا۔ عبداللہ نے کہا : یا رسول اللہ ! اس میں انھیں اختیار ہوتا ہے، اگر چاہیں تو پکڑ لیں یا چھوڑ دیں تو ہم اسے رکھ لیں گے۔ پس یہودی راضی ہوگئے اور انھوں نے کہا : اسی کے ساتھ آسمان اور زمین قائم ہیں۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے اس مرض میں فرمایا جس میں آپ کی وفات ہوئی کہ جزیرہ عرب میں دو دین جمع نہیں ہوسکتے۔ جب یہ حضرت عمر (رض) کے پاس پہنچا تو انھوں نے خیبر کے یہودیوں کی طرف پیغام بھیجا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تم کو ان اموال پر عامل بنایا ہے اور شرط لگائی تھی کہ وہ تم کو بر قرار رکھیں گے۔ یعنی جتنی دیر اللہ برقرار رکھے گا اور تحقیق اللہ نے تمہاری جلاوطنی کی اجازت دے دی تھی۔ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا زمانہ تھا۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) نے ان کو جلا وطن کردیا۔ ہر یہودی اور عیسائی کو حجاز کی زمین سے نکال دیا۔ پھر اس کو اہل حدیبیہ کے درمیان تقسیم کردیا۔