(۱۱۶۲۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا الْمُعَافَی حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ بُرْقَانَ عَنْ مَیْمُونِ بْنِ مِہْرَانَ عَنْ مِقْسَمٍ أَبِی الْقَاسِمِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ حِینَ افْتَتَحَ خَیْبَرَ وَاشْتَرَطَ عَلَیْہِمْ أَنَّ لَہُ الأَرْضَ وَکُلَّ صَفْرَائَ وَبَیْضَائَ یَعْنِی الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ فَقَالَ لَہُ أَہْلُ خَیْبَرَ : نَحْنُ أَعْلَمُ بِالأَرْضِ فَأَعْطِنَاہَا عَلَی أَنْ نَعْمَلَہَا وَیَکُونُ لَنَا نِصْفُ الثَّمَرَۃِ وَلَکُمْ نِصْفُہَا فَزَعَمَ أَنَّہُ أَعْطَاہُمْ عَلَی ذَلِکَ فَلَمَّا کَانَ حِینَ یُصْرَمُ النَّخْلُ بَعَثَ إِلَیْہِمُ ابْنَ رَوَاحَۃَ فَحَزَرَ النَّخْلَ وَہُوَ الَّذِی یَدَعُوہُ أَہْلُ الْمَدِینَۃِ الْخَرْصَ فَقَالَ فِی ذَا کَذَا وَکَذَا فَقَالُوا : أَکْثَرَتَ یَا ابْنَ رَوَاحَۃَ قَالَ : فَأَنَا آخُذُ النَّخْلَ وَأُعْطِیکُمْ نِصْفَ الَّذِی قُلْتُ قَالُوا : ہَذَا الْحَقُّ وَبِہ قَامَتِ السَّمَائُ وَالأَرْضُ رَضِینَا أَنْ نَأْخُذَہُ بِالَّذِی قُلْتَ۔ [صحیح۔ احمد ۲۲۵۵]
(١١٦٢٨) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب خیبر فتح ہوا اور ان پر شرط عائد کی زمین کی ہر چیز یعنی ، سونا چاندی پر، خیبر والوں نے کہا : ہم اس زمین کو بہتر جانتے ہیں، لہٰذا ہمیں دے دیں۔ ہم اس میں کام کریں گے اور پھلوں کا نصف ہمارا ہوگا اور نصف تمہارا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شرط پر خیبر کی زمین ان کو دے دی۔ جب پھل تیار ہوگئے تو ابن رواحہ کو ان کی طرف بھیجا۔ انھوں نے پھلوں کا اندازہ لگایا، جسے اہل مدینہ خرص کہتے تھے۔ ابن رواحہ نے کہا : اس اس طرح ہے۔ انھوں نے کہا : اے ابن رواحہ ! آپ زیادہ لے رہے ہیں۔ ابن رواحہ نے کہا : میں پھلوں کا نصف تم کو دوں گا۔ انھوں نے کہا : یہ ہی وہ حق ہے جس سے آسمان اور زمین قائم ہیں، ہم وہ لے کر راضی ہیں جو آپ نے کہا ہے۔