(۱۱۶۳۵) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِی حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحُسَیْنِ حَدَّثَنَا آدَمُ حَدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ الْہَمْدَانِیُّ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَیْمُونٍ الأَوْدِیِّ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی ہَذِہ الْقِصَّۃِ قَالَ فَقَالَ لَہَا أَبُوہَا : مَا عِلْمُکِ بِقُوَّتِہِ وَأَمَانَتِہِ فَقَالَتْ : أَمَّا قُوَّتُہُ فَإِنَّہُ رَفَعَ الْحَجَرَ وَحْدَہُ وَلاَ یُطِیقُ رَفْعَہُ إِلاَّ عَشْرَۃٌ وَأَمَّا أَمَانَتُہُ فَقَوْلُہُ امْشِی خَلْفِی وَصِفِی لِیَ الطَّرِیقَ لاَ تَصِفُ الرِّیحُ لِی جَسَدَکِ۔ [ضعیف]
(١١٦٣٥) حضرت عمر بن خطاب (رض) سے اس قصہ میں منقول ہے کہ ان (عورتوں ) کے باپ (شعیب (رح) ) نے پوچھا : تمہیں کیسے علم ہے اس کی قوت اور امانت داری کا ؟ تو اس نے کہا : اس کی قوت یہ ہے کہ اس نے اکیلے ہی وہ ڈول کھینچ لیا جسے دس آدمی اٹھاتے تھے اور اس کی امانت اس کا یہ کہنا کہ تو میرے پیچھے چل اور راستہ بتا دینا، یہ اس لیے کہ ہوا تیرا جسم میرے لیے عیاں نہ کردے۔