(۱۱۶۴۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِیٍّ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ أَیُّوبَ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : إِنَّمَا مَثَلُکُمْ وَمَثَلُ أَہْلِ الْکِتَابَیْنِ قَبْلَکُمْ مَثَلُ رَجُلٍ اسْتَأْجَرَ أَجِیرًا فَقَالَ مَنْ یَعْمَلُ مَا بَیْنَ غُدْوَۃٍ إِلَی نِصْفِ النَّہَارِ عَلَی قِیرَاطٍ؟ فَعَمِلَتِ النَّصَارَی ثُمَّ قَالَ مَنْ یَعْمَلُ لِی مَا بَیْنَ نِصْفِ النَّہَارِ إِلَی الْعَصْرِ عَلَی قِیرَاطٍ؟ فَعَمِلَتِ الْیَہُودُ ثُمَّ قَالَ مَنْ یَعْمَلُ لِی مَا بَیْنَ الْعَصْرِ إِلَی الْمَغْرِبِ عَلَی قِیرَاطَیْنِ؟ فَعَمِلْتُمْ أَنْتُمْ فَغَضِبَتِ الْیَہُودُ وَالنَّصَارَی وَقَالُوا : مَا لَنَا أَکْثَرُ عَمَلاً وَأَقَلُّ عَطَائً ؟ قَالَ : ہَلْ نَقَصْتُکُمْ مِنْ حَقِّکُمْ شَیْئًا قَالُوا : لاَ فَقَالَ : إِنَّمَا ہُوَ فَضْلِی أُوتِیہِ مَنْ أَشَائُ ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ حَرْبٍ وَبِمَعْنَاہُ رَوَاہُ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ دِینَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ۔وَرَوَاہُ سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ کَمَا۔ [بخاری ۲۲۶۸]
(١١٦٤٤) حضرت ابن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہاری مثال اور تم سے پہلے یہودیوں اور نصرانیوں کی مثال ایسی ہے کہ کسی شخص نے کئی مزدور کام پر لگائے اور اس نے کہا : کون ہے جو ایک قیراط کے بدلے صبح سے دوپہر تک کام کرے ؟ پس نصاریٰ نے کام کیا، پھر اس نے کہا : کون ہے جو دوپہر سے عصر تک ایک قیراط کے بدلے یہ کام کرے گا۔ یہودیوں نے یہ کام کیا۔ پھر اس نے کہا : کون ہے جو دو قیراط کے بدلے عصر سے مغرب تک کام کرے گا ؟ تو تم نے کام کیا۔ یہودو نصاریٰ غضب میں آگئے اور کہنے لگے : کیا ہے ہم کام زیادہ کریں اور مزدوری کم ملے۔ وہ آدمی کہنے لگا : کیا میں نے تم کو کم اجرت دی ہے وہ کہیں گے : نہیں پھر وہ کہے گا : وہ میرا فضل تھا جسے چاہا دے دیا۔