(۱۱۶۴۸) أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرِ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ أَنَّہُ بَلَغَہُ : أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ تَکَارَی أَرْضًا فَلَمْ تَزَلْ بِیَدِہِ حَتَّی ہَلَکَ قَالَ ابْنُہُ : فَمَا کُنْتُ أُرَاہَا إِلاَّ أَنَّہَا لَہُ مِنْ طُولِ مَا مَکَثَتْ بِیَدِہِ حَتَّی ذَکَرَہَا عِنْد مَوْتِہِ وَأَمَرَنَا بِقَضَائِ شَیْئٍ بَقِیَ عَلَیْہِ مِنْ کِرَائِہَا مِنْ ذَہَبٍ أَوْ وَرِقٍ۔ [ضعیف]
(١١٦٤٨) حضرت عبدالرحمن بن عوف (رض) نے زمین کرائے پر لی، وہ ان کے قبضہ میں رہی۔ یہاں تک کہ وہ فوت ہوگئے۔ ان کے بیٹے نے کہا : میں نے اپنے باپ کے قبضہ میں زیادہ عرصہ رہنے کی وجہ سے گمان کیا کہ وہ ان کی ملکیت ہے۔ یہاں تک کہ وفات کے وقت انھوں نے بتایا اور ہمیں حکم دیا کہ سونا اور چاندی دے کر کچھ کرایہ ادا کریں۔