(۱۱۶۷۱) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِیدِ الْحَارِثِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ کَثِیرٍ حَدَّثَنِی نَافِعٌ عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنْ أَبِیہِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ : أَیُّمَا رَجُلٍ أَکْرَی کِرَائً فَجَاوَزَ صَاحِبُہُ ذَا الْحُلَیْفَۃِ فَقَدْ وَجَبَ کِرَاؤُہُ وَلاَ ضَمَانَ عَلَیْہِ۔ یُرِیدُ وَاللَّہُ أَعْلَمُ قَبَضَ الْمُکْتَرِی مَا اکْتَرَی وَجَاوَزَ ذَا الْحُلَیْفَۃِ فَقَدْ وَجَبَ عَلَیْہِ جَمِیعُ الْکِرَائِ إِذَا لَمْ یَکُنْ شَرَطَ فِی الأُجْرَۃِ أَجَلاً وَلاَ ضَمَانَ عَلَیْہِ إِذَا لَمْ یَتَعَدَّ۔ [صحیح]
(١١٦٧١) حضرت عمر (رض) سے منقول ہے کہ جو آدمی کرایہ پر کوئی چیز لے۔ پھر اس کا ساتھی ذوالحلیفہ کی طرف بھی تجاوز کرے تو اس پر کرایہ واجب ہے اور ضمان نہیں ہے۔ کرایہ پر دینے والے نے جو کرایہ قبض کرلیا اور وہ ذوالحلیفہ کی طرف تجاوز کر گیا تو اس پر مکمل کرایہ واجب ہے۔ جب اجرت میں شرط نہ ہو اور جب تک وہ زیادتی نہ کرے اور اس پر ضمان نہیں ہے۔