hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 11677

.

سنن البيهقي

11677
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۶۷۲) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ الأَصَمُّ أَخْبَرَنَا الرَّبِیعُ بْنُ سُلَیْمَانَ أَخْبَرَنَا الشَّافِعِیُّ قَالَ : التَّعْزِیرُ أَدَبٌ لاَ حَدٌّ مِنْ حُدُودِ اللَّہِ وَقَدْ کَانَ یَجُوزُ تَرْکُہُ أَلاَ تَرَی أَنَّ أُمُورًا قَدْ فُعِلَتْ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- کَانَتْ غَیْرَ حُدُودٍ فَلَمْ یَضْرِبْ فِیہَا مِنْہَا الْغُلُولُ فِی سَبِیلِ اللَّہِ وَغَیْرِ ذَلِکَ وَلَمْ یُؤْتَ بِحَدٍّ قَطُّ فَعَفَا قَالَ وَقِیلَ : بَعَثَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ إِلَی امْرَأَۃٍ فِی شَیْئٍ بَلَغَہُ عَنْہَا فَأَسْقَطَتْ فَاسْتَشَارَ فَقَالَ لَہُ قَائِلٌ : أَنْتَ مُؤَدِّبٌ فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ : إِنْ کَانَ اجْتَہَدَ فَقَدْ أَخْطَأَ وَإِنْ لَمْ یَجْتَہِدْ فَقَدْ غَشَّ عَلَیْکَ الدِّیَۃُ قَالَ : عَزَمْتُ عَلَیْکَ أَنْ لاَ تَجْلِسْ حَتَّی تَضْرِبَہَا عَلَی قَوْمِکَ قَالَ وَقَالَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : مَا أَحَدٌ یَمُوتُ فِی حَدٍّ فَأَجِدُ فِی نَفْسِی مِنْہُ شَیْئًا الْحَقُّ قَتْلُہُ إِلاَّ مَنْ مَاتَ فِی حَدِّ خَمْرٍ فَإِنَّہُ شَیْئٌ رَأَیْنَاہُ بَعْدَ النَّبِیِّ -ﷺ- فَمَنْ مَاتَ فِیہِ فَدَیْتُہُ إِمَّا قَالَ عَلَی بَیْتِ الْمَالِ وَإِمَّا قَالَ عَلَی عَاقِلَۃِ الإِمَامِ۔ [صحیح]
(١١٦٧٢) امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : سزا ادب ہے۔ اللہ کی حدود میں سے حد نہیں ہے اور اس کا ترک کرنا بھی جائز ہے۔ آپ نہیں دیکھتے کچھ کام رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں ہوئے جو حدود میں سے نہ تھے مثلاًاللہ کے راستے میں خیانت کرنا اور اس کے علاوہ دیگر کام اور انھیں کبھی حد نہ لگی، بلکہ آپ نے معاف کردیا اور یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ حضرت عمر (رض) نے کسی عورت کی طرف کوئی چیز بھیجی، پھر آپ کو پتہ چلا کہ اس عورت نے وہ گم کردی ہے تو حضرت عمر (رض) نے اس بارے میں مشورہ کیا، ایک آدمی نے کہا : آپ مؤدب ہیں۔ حضرت علی (رض) نے اس سے کہا : اگر اس نے اجتہاد سے یہ بات کہی تو اس نے غلطی کی۔ اگر اجتھاد نہیں کیا تو اس نے آپ کے ساتھ دیت پر خیانت کی اور فرمایا : میرا خیال ہے کہ آپ جب تک اس کی قوم کو بتا نہ دیں اس وقت تک نہ بیٹھیں اور حضرت علی (رض) نے کہا : جو کوئی حد میں قتل ہوجائے میرے خیال میں اس کا قتل حق ہے مگر شراب کی حد میں مرنے والا۔ بیشک وہ ایسی چیز ہے کہ ہم نے اسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد دیکھا ہے۔ جو شراب کی حد میں فوت ہوتا ہے اس کی دیت یا تو بیت المال سے ادا ہوگی یا امام (خلیفہ ) کے ذمہ ہوگی۔