(۱۱۷۲۰) وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوبَکْرِ بْنُ دَاسَۃَ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا قُتَیْبَۃُ بْنُ سَعِیدٍ أَخْبَرَنَا لَیْثٌ
(ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو الأَدِیبُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ الإِسْمَاعِیلِیُّ أَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ سُفْیَانَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ أَخْبَرَنِی اللَّیْثُ ہُوَ ابْنُ سَعْدٍ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَنْظَلَۃَ بْنِ قَیْسٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیجٍ قَالَ حَدَّثَنِی عَمَّایَ أَنَّہُمْ کَانُوا یُکْرُونَ الأَرْضَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- بِمَا یَنْبُتُ عَلَی الأَرْبِعَائِ أَوْ شَیْئٍ یَسْتَثْنِیہِ صَاحِبُ الأَرْضِ فَنَہَانَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَنْ ذَلِکَ فَقُلْتُ لِرَافِعٍ : کَیْفَ ہِیَ بِالدَّنَانِیرِ وَالدَّرَاہِمِ؟ فَقَالَ رَافِعٌ : لاَ بَأْسَ بِہَا بِالدَّنَانِیرِ وَالدَّرَاہِمِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ عَنِ اللَّیْثِ۔ [صحیح]
(١١٧٢٠) رافع بن خدیج (رض) فرماتے ہیں : مجھے میرے چچاؤں نے بیان کیا کہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں زمین کرایہ پر دیتے تھے، اس کے بدلے جو زمین کی پیداوار ہوتی تھیں یا اس چیز کے بدلے جسے زمین کا مالک مستثنیٰ قرار دیتا تھا۔ پھر آپ نے اس سے منع کردیا۔ میں نے رافع سے کہا : درہموں اور دیناروں کے بدلے کیسا ہے ؟ تو رافع نے کہا : اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔