(۱۱۷۲۱) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَأَحْمَدُ بْنُ سَلَمَۃَ وَحُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالُوا حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ أَخْبَرَنَا عِیسَی بْنُ یُونُسَ حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِیُّ عَنْ رَبِیعَۃَ بْنِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ حَنْظَلَۃَ بْنِ قَیْسٍ الأَنْصَارِیِّ قَالَ : سَأَلْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِیجٍ عَنْ کِرَائِ الأَرْضِ بِالذَّہَبِ وَالْوَرِقِ فَقَالَ : لاَ بَأْسَ بِہِ إِنَّمَا کَانَ النَّاسُ یُؤَاجِرُونَ عَلَی عَہْدِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی الْمَاذِیَانَاتِ وَأَقْبَالِ الْجَدَاوِلِ وَأَشْیَائَ مِنَ الزَّرْعِ فَیَہْلِکُ ہَذَا وَیَسْلَمُ ہَذَا وَیَسْلَمُ ہَذَا وَیَہْلِکُ ہَذَا وَلَمْ یَکُنْ لِلنَّاسِ کِرَائٌ إِلاَّ ہَذَا فَلِذَلِکَ زَجَرَ عَنْہُ فَأَمَّا شَیْئٌ مَعْلُومٌ مَضْمُونٌ فَلاَ بَأْسَ بِہِ۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاہِیمَ۔ [صحیح]
(١١٧٢١) حنظلہ بن قیس فرماتے ہیں : میں نے رافع سے زمین کو سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ پر دینے کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے فرمایا : اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں لوگ نہر کے کنارے اور نالیوں کے سروں پر اور زمین کی پیداوارپر اسے کرایہ پر دیتے تھے۔ کبھی کوئی تلف ہوجاتی اور کوئی بچ جاتی اور لوگوں کو وہی کرایہ ملتا تھا جو بچ جاتا اس لیے آپ نے اس سے منع کردیا، لیکن اگر کوئی معین چیز ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔