(۱۱۷۳۹) وَأَخْبَرَنَا أَبُوعَبْدِالرَّحْمَنِ السُّلَمِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُوالْحَسَنِ الْکَارِزِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ عَبْدِالْعَزِیزِ عَنْ أَبِی عُبَیْدٍ حَدَّثَنَا جَرِیرٌ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ أُسَیْدِ بْنِ ظُہَیْرٍ عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِیحٍ عَنِ النَّبِیِّ -ﷺ- فِی الْمُزَارَعَۃِ: إِنَّ أَحَدَہُمْ کَانَ یَشْتَرِطُ ثَلاَثَۃَ جَدَاوِلَ وَالْقُصَارَۃَ وَمَا سَقَی الرَّبِیعُ فَنَہَی النَّبِیُّ -ﷺ- عَنْ ذَلِکَ۔ [صحیح]
قَالَ الشَّیْخُ : وَمَنْ ذَہَبَ إِلَی ہَذَا زَعَمَ أَنَّ الأَخْبَارَ الَّتِی وَرَدَ النَّہْیُ فِیہَا عَنْ کِرَائِہَا بِالنِّصْفِ أَوِ الثُّلُثِ أَوِ الرُّبُعِ إِنَّمَا ہُوَ لِمَا کَانُوا یُلْحِقُونَ بِہِ مِنَ الشُّرُوطِ الْفَاسِدَۃِ فَقَصَّرَ بَعْضُ الرُّوَاۃِ بِذِکْرِہَا وَقَدْ ذَکَرَہَا بَعْضُہُمْ وَالنَّہْیُ یَتَعَلَّقُ بِہَا دُونَ غَیْرِہَا وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔ [ضعیف]
(١١٧٣٩) رافع بن خدیج (رض) نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مزارعت کے بارے میں نقل فرماتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک تین نالیوں کی شرط لگاتا تھا اور پھل کے پانی کی۔ پس نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے منع فرمادیا۔
شیخ فرماتے ہیں : اور اس طرف گیا کہ وہ اخبار جو نہی پر وارد ہوتی ہیں نصف ، ثلث اور ربع کرایہ پر اس وجہ سے ہے کہ وہ فاسد شرطیں لگاتے تھے۔ بعض راویوں نے اس کے ذکر میں تقصیر کی اور بعض نے ان کو ذکر دیا اور نہی کا تعلق انہی سے ہے اس کے علاوہ سے نہیں۔