(۱۱۷۹۳) أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ الشَّیْبَانِیِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ الثَّقَفِیِّ قَالَ : کَانَ بِالْبَصْرَۃِ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ نَافِعٌ أَبُو عَبْدِ اللَّہِ فَأَتَی عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَالَ : إِنَّ بِالْبَصْرَۃِ أَرْضًا لَیْسَتْ مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ وَلاَ تَضُرُّ بِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ وَکَتَبَ إِلَیْہِ أَبُو مُوسَی یُعْلِمُہُ بِذَلِکَ فَکَتَبَ عُمَرُ إِلَی أَبِی مُوسَی رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُمَا : إِنْ کَانَتْ لَیْسَتْ تَضُرُّ بِأَحَدٍ مِنَ الْمُسْلِمِینَ وَلَیْسَتْ مِنْ أَرْضِ الْخَرَاجِ فَأَقْطِعْہَا إِیَّاہُ۔ [ضعیف]
(١١٧٩٣) محمد بن عبیداللہ ثقفی فرماتی ہیں کہ بصرہ میں ایک آدمی جس کا نام نافع ابو عبداللہ تھا، وہ حضرت عمر (رض) کے پاس آیا اور کہا : بصرہ میں ایسی زمین ہے جو نہ خراج والی ہے اور نہ ہی اس سے مسلمانوں کا نقصان ہے اور ابو موسیٰ (گورنر) نے آپ کو لکھا ہے تاکہ آپ کو علم ہوجائے۔ حضرت عمر (رض) نے ابو موسیٰ کو لکھا کہ اگر وہ ایسی زمین ہے جس سے نہ تو مسلمانوں کا نقصان ہو اور نہ خراجی ہے تو اسے بطور جاگیر اس کودے دو ۔