(۱۱۸۰۹) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْعَدْلُ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْعَبْدِیُّ حَدَّثَنَا ابْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِیہِ : أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ اسْتَعْمَلَ مَوْلًی لَہُ یُدْعَی ہُنَیًّا عَلَی الْحِمَی فَقَالَ لَہُ : یَا ہُنَیُّ اضْمُمْ جَنَاحَکَ عَنِ الْمُسْلِمِینَ وَاتَّقِ دَعْوَۃَ الْمَظْلُومِ فَإِنَّ دَعْوَۃَ الْمَظْلُومِ مُجَابَۃٌ وَأَدْخِلْ رَبَّ الصُّرَیْمَۃِ وَالْغُنَیْمَۃِ وَإِیَّایَ وَنَعَمَ ابْنِ عَفَّانَ وَنَعَمَ ابْنِ عَوْفٍ فَإِنَّہُمَا إِنْ تَہْلِکْ مَاشِیَتُہُمَا یَرْجِعَانِ إِلَی نَخْلٍ وَزَرْعٍ وَإِنَّ رَبَّ الصُّرَیْمَۃِ وَالْغُنَیْمَۃِ إِنْ تَہْلِکْ مَاشِیَتُہُمَا یَأْتِینِی بِبَیِّنَۃٍ فَیَقُولُ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ أَفَتَارِکُہُمْ أَنَا لاَ أَبَا لَکَ فَالْمَائُ وَالْکَلأُ أَیْسَرُ عَلَیْکَ مِنَ الذَّہَبِ وَالْوَرِقِ وَایْمُ اللَّہِ إِنَّہُمْ یَرَوْنَ أَنِّی قَدْ ظَلَمْتُہُمْ إِنَّہَا لَبِلاَدُہُمْ قَاتَلُوا عَلَیْہَا فِی الْجَاہِلِیَّۃِ وَأَسْلَمُوا عَلَیْہَا فِی الإِسْلاَمِ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْلاَ الْمَالُ الَّذِی أَحْمِلُ عَلَیْہِ فِی سَبِیلِ اللَّہِ مَا حَمَیْتُ عَلَی النَّاسِ فِی بِلاَدِہِمْ شِبْرًا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ عَنْ مَالِکٍ۔
[بخاری ۳۰۵۹]
(١١٨٠٩) زید بن اسلم اپنے والد سے نقل فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب (رض) نے اپنے ھنی نامی غلام کو (سرکاری ) چراگاہ کا حاکم بنایا تو انھیں یہ ہدایت کی کہ اے ھنی ! مسلمانوں سے اپنے ہاتھ روکے رکھنا (ان پر ظلم نہ کرنا ) اور مظلوم کی بدعا سے ہر وقت بچتے رہنا، کیونکہ مظلوم کی بدعا قبول ہوتی ہے اور ابن عوف اور ابن عفان (امیر) کے مویشیوں کے بارے میں تجھے ڈرتے رہنا چاہیے، (یعنی ان کے امیر ہونے کی وجہ سے دوسرے غریبوں کے مویشیوں پر چراگاہ میں انھیں مقدم نہ رکھنا ) ؛کیونکہ اگر ان کے مویشی ہلاک بھی ہوجائیں گے تو یہ امیر لوگ اپنے کھجور کے باغات اور کھیتوں سے اپنی معاش حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن گنے چنے اور گنی چنی بکریوں کا مالک (غریب) کہ اگر اس کے مویشی ہلاک ہوگئے تو وہ اپنے بچوں کو میرے پاس لائے گا اور فریاد کرے گا : یا امیر المومنین ! کیا میں انھیں چھوڑ دوں ؟ اس لیے (پہلے ہی سے ) ان کے لیے چارے اور پانی کا انتظام کردینا، میرے لیے اس سے زیادہ آسان ہے کہ میں ان کے لیے سونے چاندی کا انتظام کروں اور خدا کی قسم وہ (اہل مدینہ ) یہ سمجھتے ہوں گے کہ میں نے ان کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ کیونکہ یہ زمینیں انہی کی ہیں، انھوں نے جاہلیت کے زمانہ میں ان کے لیے لڑائیاں لڑی ہیں اور اسلام لانے کے بعد بھی ان کی ملکیت کو بحال رکھا گیا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے اگر وہ اموال (گھوڑے) نہ ہوتے جن پر جہاد میں لوگوں کو سوار کرتا ہوں تو ان کے علاقہ میں ایک بالشت زمین کو بھی چراگاہ نہ بناتا۔