(۱۱۸۱۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ عِیسَی الْحِیرِیُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الْحَرَشِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَیْمَانَ التَّیْمِیُّ حَدَّثَنَا أَبِی حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَۃَ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ مَوْلَی أَبِی أُسَیْدٍ الأَنْصَارِیِّ قَالَ سَمِعَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : أَنَّ وَفْدَ أَہْلِ مِصْرَ قَدْ أَقْبَلُوا فَاسْتَقْبَلَہُمْ فَلَمَّا سَمِعُوا بِہِ أَقْبَلُوا نَحْوَہُ قَالَ وَکَرِہَ أَنْ یَقْدَمُوا عَلَیْہِ الْمَدِینَۃَ فَأَتَوْہُ فَقَالُوا لَہُ : ادْعُ بِالْمُصْحَفِ وَافْتَتَحِ السَّابِعَۃَ وَکَانُوا یُسَمُّونَ سُورَۃَ یُونُسَ السَّابِعَۃَ فَقَرَأَہَا حَتَّی أَتَی عَلَی ہَذِہِ الآیَۃِ {قُلْ أَرَأَیْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّہُ لَکُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْہُ حَرَامًا وَحَلاَلاً قُلْ آللَّہُ أَذِنَ لَکُمْ أَمْ عَلَی اللَّہِ تَفْتَرُونَ} قَالُوا لَہُ : قِفْ أَرَأَیْتَ مَا حَمَیْتَ مِنَ الْحِمَی آللَّہُ أَذِنَ لَکَ أَمْ عَلَی اللَّہِ تَفْتَرِی فَقَالَ : امْضِہِ نَزَلَتْ فِی کَذَا وَکَذَا فَأَمَّا الْحِمَی فَإِنَّ عُمَرَ حَمَی الْحِمَی قَبْلِی لإِبِلِ الصَّدَقَۃِ فَلَمَّا وَلَّیْتُ زَادَتْ إِبِلُ الصَّدَقَۃِ فَزِدْتُ فِی الْحِمَی لَمَّا زَادَ فِی الصَّدَقَۃِ۔ [صحیح۔ ابن ابی شیبہ ۳۷۶۹۰]
(١١٨١٠) ابو اسید انصاری فرماتے ہیں : میں نے عثمان بن عفان (رض) سے سنا کہ اہل مصر کا وفد آیا تو حضرت عثمان (رض) نے ان کا استقبال کیا۔ جب انھوں نے سنا تو وہ بھی متوجہ ہوئے اور حضرت عثمان (رض) نے ان کا مدینہ آنا بھی مکروہ خیال کیا۔ وہ آپ کے پاس آئے تو انھوں نے کہا : مصحف منگواؤ اور ساتویں سورت کی تلاوت کرو اور سابقہ سو رہ یونس کا نام لیتے تھے۔ آپ نے تلاوت شروع کی۔ جب اس آیت پر پہنچے :{ قُلْ أَرَأَیْتُمْ مَا أَنْزَلَ اللَّہُ لَکُمْ مِنْ رِزْقٍ فَجَعَلْتُمْ مِنْہُ حَرَامًا وَحَلاَلاً قُلْ آللَّہُ أَذِنَ لَکُمْ أَمْ عَلَی اللَّہِ تَفْتَرُونَ } کہہ دیں تمہارا کیا خیال ہے جو اللہ نے تمہارے لیے رزق نازل کیا پس تم نے اپنی مرضی سے حلال اور حرام بنالیا ہے کہہ دیں : کیا اللہ نے تم کو اجازت دی ہے یا تم اللہ پر جھوٹ باندھتے ہو۔ [یونس ٥٩] انھوں نے عثمان سے کہا : ٹھہر جاؤ آپ کا کیا خیال ہے آپ نے جو چراگاہ بنائی ہے ؟ کیا اللہ نے آپ کو اجازت دی ہے یا تم نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے، آپ نے کہا : رک جاؤ یہ آیت فلاں بارے میں نازل ہوئی ہے۔ پس رہا چراگاہ کا معاملہ تو حضرت عمر (رض) نے مجھ سے پہلے صدقہ کے اونٹوں کے لیے بنائی تھی۔ پس جب میں متوجہ ہوا تو صدقہ کے اونٹ بھی زیادہ ہوگئے اس لیے میں نے چراگاہ میں زیادتی کردی۔