hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 11816

.

سنن البيهقي

11816
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۸۱۱) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ دَعْلَجٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ حَدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا یُونُسُ بْنُ أَبِی یَعْفُورٍ عَنْ أَبِیہِ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللَّہِ بْنُ عُمَرَ : اشْتَرَیْتُ إِبِلاً وَارْتَجَعْتُہَا إِلَی الْحِمَی فَلَمَّا سَمِنَتْ قَدِمْتُ بِہَا قَالَ : فَدَخَلَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ السُّوقَ فَرَأَی إِبِلاً سِمَانًا فَقَالَ : لِمَنْ ہَذِہِ الإِبِلُ؟ قِیلَ : لِعَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُمَرَ قَالَ فَجَعَلَ یَقُولُ : یَا عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ بَخٍ بَخٍ ابْنَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ قَالَ فَجِئْتُہُ أَسْعَی فَقُلْتُ : مَا لَکَ یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ قَالَ : مَا ہَذِہِ الإِبِلُ؟ قَالَ قُلْتُ : إِبِلٌ أَنْضَائٌ اشْتَرَیْتُہَا وَبَعَثْتُ بِہَا إِلَی الْحِمَی أَبْتَغِی مَا یَبْتَغِی الْمُسْلِمُونَ قَالَ فَقَالَ : ارْعُوا إِبِلَ ابْنِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ اسْقُوا إِبِلَ ابْنِ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ یَا عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عُمَرَ اغْدُ عَلَی رَأْسِ مَالِکَ وَاجْعَلْ بَاقِیَہُ فِی بَیْتِ مَالِ الْمُسْلِمِینَ۔ [ضعیف] (ق) ہَذَا الأَثَرُ یَدُلُّ عَلَی أَنَّ غَیْرَ النَّبِیِّ -ﷺ- لَیْسَ لَہُ أَنْ یَحْمِیَ لِنَفْسِہِ وَفِیہِ وَفِیمَا قَبْلَہُ دَلاَلَۃٌ عَلَی أَنَّ قَوْلَ النَّبِیِّ -ﷺ-: لاَ حِمَی إِلاَّ لِلَّہِ وَرَسُولِہِ ۔أَرَادَ بِہِ َحِمَی إِلاَّ عَلَی مِثْلِ مَا حَمَی عَلَیْہِ رَسُولُہُ فِی صَلاَحِ الْمُسْلِمِینَ وَاللَّہُ أَعْلَمُ۔
(١١٨١١) عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں : میں نے اونٹ خریدا اور اسے چراگاہ کی طرف لوٹا دیا۔ جب وہ موٹا تازہ ہوگیا تو میں لے آیا پس عمر بن خطاب آئے، بازار میں اونٹ دیکھا تو پوچھا کہ یہ کس کا اونٹ ہے ؟ کہا گیا : عبداللہ بن عمر (رض) کا۔ آپ کہنے لگے : واہ امیر المومنین کے بیٹے ! ابن عمر کہتے ہیں : میں دوڑتا ہوا آیا، میں نے پوچھا : امیر المومنین کیا بات ہے ؟ کہا : یہ اونٹ کس کا ہے ؟ میں نے کہا : اسے میں نے خریدا اور چراگاہ کی طرف بھیج دیا، جس طرح دوسرے مسلمان کرتے تھے۔ آپ نے کہا : (انہوں نے) کہا ہوگا امیرالمومنین کے بیٹے کے اونٹ کو چراؤ، امیرالمومنین کے بیٹے کے اونٹ کو پلاؤ، پھر کہا : اے ابن عمر اپنی اصل رقم لے لو اور باقی بیت المال میں داخل کر دو ۔
یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے علاوہ کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی ذات کے لیے خاص چراگاہ بنائے اور اس میں اور پہلے اثروں میں اس پر دلالت ہوتی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا فرمان چراگاہ اللہ اور اس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہے اس سے مراد جو مسلمانوں کی اصلاح کے لیے چراگاہ ہو۔