(۱۱۸۵۴) أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ وَمُحَمَّدُ بْنُ مُوسَی بْنِ الْفَضْلِ قَالاَ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ مَرْزُوقٍ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ الزَّہْرَانِیُّ عَنِ اللَّیْثِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ سَمِعْتُ ابْنَ شِہَابٍ یُحَدِّثُ عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ الزُّبَیْرِ حَدَّثَہُ : أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ خَاصَمَ الزُّبَیْرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فِی شِرَاجِ الْحَرَّۃِ الَّتِی یَسْقُونَ بِہَا النَّخْلَ فَقَالَ الأَنْصَارِیُّ : سَرِّحِ الْمَائَ یَمُرُّ فَأَبَی عَلَیْہِ فَاخْتَصَمَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : اسْقِ یَا زُبَیْرُ ثُمَّ أَرْسِلْ إِلَی جَارِکَ ۔ فَغَضِبَ الأَنْصَارِیُّ فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَنْ کَانَ ابْنُ عَمَّتِکَ فَتَلَوَّنَ وَجْہُ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- ثُمَّ قَالَ : یَا زُبَیْرُ اسْقِ ثُمَّ احْتَبِسِ الْمَائَ حَتَّی یَرْجِعَ إِلَی الْجَدْرِ ۔ فَقَالَ الزُّبَیْرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ : وَاللَّہِ إِنِّی لأَحْسِبُ ہَذِہِ الآیَۃَ نَزَلَتْ فِی ذَلِکَ {فَلاَ وَرَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُونَ حَتَّی یُحَکِّمُوکَ فِیمَا شَجَرَ بَیْنَہُمْ} إِلَی قَوْلِہِ {وَیُسَلِّمُوا تَسْلِیمًا} رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ یُوسُفَ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ قُتَیْبَۃَ وَمُحَمَّدِ بْنِ رُمْحٍ کُلُّہُمْ عَنِ اللَّیْثِ۔
[بخاری ۲۳۶۰، مسلم ۲۳۵۷]
(١١٨٥٤) حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) نے فرمایا کہ انصار کے آدمی نے حضرت زبیر (رض) سے حرہ نامی نالے کا پانی جس سے کھجوروں کو پانی لگاتے تھے کے بارے جھگڑا کیا۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اپنا جھگڑا پیش کیا۔ انصاری نے کہا : پانی آگے جانے دو ، حضرت زبیر نے انکار کردیا۔ وہ دونوں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے زبیر ! پہلے اپنے باغ کو پانی دو ، پھر اپنے ہمسائے کے لیے چھوڑ دو ۔ انصاری غصہ میں آگیا اور کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! زبیر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی پھوپھی کے بیٹے ہیں ناں ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔ آپ نے فرمایا : اے زبیر ! سیراب کرلو۔ پھر پانی کو اتنی دیر تک روکے رکھو کہ وہ منڈیروں تک چڑھ جائے۔ حضرت زبیر نے کہا : اللہ کی قسم ! میرا تو خیال ہے : یہ آیت اسی بارے میں نازل ہوئی ہے { فَلاَ وَرَبِّکَ لاَ یُؤْمِنُونَ } ہرگز نہیں تیرے رب کی قسم ! یہ لوگ اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتے، جب تک آپ کو وہ اپنے جھگڑوں میں حاکم تسلیم نہ کریں۔