(۱۱۸۸۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُقْرِئُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا یُوسُفُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِیعِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ عَنْ وَاصِلٍ مَوْلَی أَبِی عُیَیْنَۃَ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا جَعْفَرٍ : مُحَمَّدَ بْنَ عَلِیٍّ یُحَدِّثُ عَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍ : أَنَّہُ کَانَتْ لَہُ عَضُدٌ مِنْ نَخْلٍ فِی حَائِطِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ قَالَ وَمَعَ الرَّجُلِ أَہْلُہُ وَکَانَ سَمُرَۃُ بْنُ جُنْدُبٍ یَدْخُلُ إِلَی نَخْلِہِ فَیَتَأَذَّی بِہِ وَیَشُقُّ عَلَیْہِ فَطَلَبَ إِلَیْہِ أَنْ یَبِیعَہُ فَأَبَی فَطَلَبَ إِلَیْہِ أَنْ یُنَاقِلَہُ فَأَبَی فَأَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ فَطَلَبَ إِلَیْہِ النَّبِیُّ -ﷺ- أَنْ یَبِیعَہُ فَأَبَی فَطَلَبَ إِلَیْہِ أَنْ یُنَاقِلَہُ فَأَبَی قَالَ فَہَبْہُ لِی وَلَکَ کَذَا وَکَذَا ۔ أَمْرٌ رَغَّبَہُ فِیہِ فَأَبَی فَقَالَ : أَنْتَ مُضَارٌّ ۔ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لِلأَنْصَارِیِّ : اذْہَبْ فَاقْلَعْ نَخْلَہُ ۔وَقَدْ رُوِیَ فِی مُعَارَضَتِہِ مَا دَلَّ عَلَی أَنَّہُ لاَ یُجْبَرُ عَلَیْہِ۔
[ضعیف۔ ابوداؤد ۳۶۳۶]
(١١٨٨٣) حضرت سمرۃ سے روایت ہے کہ ایک انصاری کے باغ میں ان کے بھی چند درخت تھے اور اس کے ساتھ اہل و عیال بھی تھے اور سمرۃ جب باغ میں داخل ہوتے تو اس آدمی پر مشکل اور گراں گزرتا۔ اس نے سمرۃ سے کہا کہ وہ درخت بیچ دیں لیکن سمرۃ نے انکار کردیا۔ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور ذکر کیا۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی سمرۃ سے کہا : بیچ دو لیکن سمرۃ نے انکار کردیا۔ پھر اس سے بدل کے طور پر مانگے۔ سمرۃ نے پھر انکار کردیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : تو نقصان پہنچانے والا ہے۔ پھر انصاری سے کہا : جا اور اس کے درختوں کو اکھاڑ دے۔