(۱۱۸۸۵) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ حَدَّثَنِی سَعِیدُ بْنُ الْمُسَیَّبِ : أَنَّ أَوَّلَ شَیْئٍ عَتَبَ فِیہِ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی أَبِی لُبَابَۃَ بْنِ عَبْدِ الْمُنْذِرِ أَنَّہُ خَاصَمَ یَتِیمًا لَہُ فِی عَذْقِ نَخْلَۃٍ فَقَضَی رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لأَبِی لُبَابَۃَ بِالْعَذْقِ فَضَجَّ الْیَتِیمُ وَاشْتَکَی إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- لأَبِی لُبَابَۃَ : ہَبْ لِی ہَذَا الْعَذْقَ یَا أَبَا لُبَابَۃَ لِکَیْ نَرُدَّہُ إِلَی الْیَتِیمِ ۔ فَأَبَی أَبُو لُبَابَۃَ أَنْ یَہَبَہُ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : یَا أَبَا لُبَابَۃَ أَعْطِہِ ہَذَا الْیَتِیمَ وَلَکَ مِثْلُہُ فِی الْجَنَّۃِ ۔ فَأَبَی أَبُو لُبَابَۃَ أَنْ یُعْطِیَہُ فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ : یَا رَسُولَ اللَّہِ أَرَأَیْتَ إِنِ ابْتَعْتُ ہَذَا الْعَذْقَ فَأَعْطَیْتُ الْیَتِیمَ أَلِی مِثْلُہُ فِی الْجَنَّۃِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : نَعَمْ ۔ فَانْطَلَقَ الأَنْصَارِیُّ وَہُوَ ابْنُ الدَّحْدَاحَۃِ حَتَّی لَقِیَ أَبَا لُبَابَۃَ فَقَالَ : یَا أَبَا لُبَابَۃَ أَبْتَاعُ مِنْکَ ہَذَا الْعَذْقَ بِحَدِیقَتِی ۔ وَکَانَتْ لَہُ حَدِیقَۃُ نَخْلٍ فَقَالَ أَبُو لُبَابَۃَ : نَعَمْ فَابْتَاعَہُ مِنْہُ بِحَدِیقَۃٍ فَلَمْ یَلْبَثِ ابْنُ الدَّحْدَاحَۃِ إِلاَّ یَسِیرًا حَتَّی جَائَ کُفَّارُ قُرَیْشٍ یَوْمَ أُحُدٍ فَخَرَجَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَاتَلَہُمْ فَقُتِلَ شَہِیدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : رُبَّ عَذْقٍ مُذَلَّلٍ لاِبْنِ الدَّحْدَاحَۃِ فِی الْجَنَّۃِ ۔
(ق) وَأَمَّا حَدِیثُ لاَ ضَرَرَ وَلاَ ضِرَارَ فَہُوَ مُرْسَلٌ وَہُوَ مُشْتَرِکُ الدِّلاَلَۃِ وَأَمَّا حَدِیثُ الْخَشَبَۃِ فَمِنَ الْعُلَمَائِ مَنْ حَمَلَہُ عَلَی ظَاہِرِہِ لِحَمْلِ رَاوِیہِ عَلَی الْوُجُوبِ کَمَا تَرَی وَلَمْ أَجِدْ لِلشَّافِعِیِّ قَوْلاً یُخَالِفُہُ بَلْ قَدْ نَصَّ فِی الْقَدِیمِ وَالْجَدِیدِ عَلَی مَا یُوَافِقُہُ وَأَمَّا حَدِیثُ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَدْ خَالَفَہُ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَۃَ وَقَدْ نَجِدُ مَنْ یَدَعُ الْقَوْلَ بِہِ عُمُومًا فِی أَنَّ کُلَّ مُسْلِمٍ أَحَقُّ بِمَالِہِ فَیَتَوَسَّعُ بِہِ فِی خِلاَفِہِ
قَالَ الشَّافِعِیُّ فِی الْقَدِیمِ وَأَحْسَبُ قَضَائَ عُمَرَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی امْرَأَۃِ الْمَفْقُودِ مِنْ بَعْضِ ہَذِہِ الْوُجُوہِ الَّتِی مَنَعَ فِیہَا الضَّرَرَ بِالْمَرْأَۃِ إِذَا کَانَ الضَّرَرُ عَلَیْہَا أَبْیَنَ
قَالَ فِی الْجَدِیدِ وَقَالَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فِی امْرَأَۃِ الْمَفْقُودِ : امْرَأَۃٌ ابْتُلِیَتْ فَلْتَصْبِرْ لاَ تُنْکَحُ حَتَّی یَأْتِیَہَا یَقِینُ مَوْتِہِ۔
قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ وَبِہَذَا نَقُولُ۔ [حسن]
(١١٨٨٥) حضرت سعید بن مسیب فرماتے ہیں : پہلی چیز جس میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو لبابہ کو ڈانٹ پلائی وہ اس طرح کہ ابو لبابہ کا ایک یتیم سے باغ کے درختوں میں جھگڑا تھا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے درختوں کا فیصلہ ابو لبابہ کے حق میں کردیا۔ یتیم پریشان ہوا اور اس نے شکایت کی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ابو لبابہ سے کہا : اے ابو لبابہ ! مجھے ھبہ کر دے تاکہ ہم یتیم کو دے دیں۔ ابو لبابہ نے ھبہ کرنے سے انکار کردیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : اے ابو لبابہ ! اس یتیم کو دے دو تیرے لیے جنت میں اس کی مثل ہوگا۔ ابو لبابہ نے انکار کردیا۔ ایک انصاری آدمی نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ کا کیا خیال ہے اگر میں خرید لوں اور یتیم کو دے دوں تو میرے لیے بھی جنت میں اسی طرح کے درخت ہوں گے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہاں میں جواب دیا۔ وہ انصاری صحابی جن کا نام ابو دحداحہ تھا۔ ابو لبابہ کو ملے اور کہا : اے ابو لبابہ ! یہ باغ میرے باغ کے بدلے میں مجھے بیچ دو اور ابو دحداحہ کا کھجوروں کا باغ تھا۔ ابو لبابہ نے بیچ دیا۔ ابودحداحہ زیادہ دیر زندہ نہ رہے، بلکہ جنگِ احد میں شہید ہوگئے۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کتنے ہی خوشے جنت میں ابو دحداحہ کے لیے لٹکے ہوئے ہیں۔