(۱۱۸۸۸) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ أَخْبَرَنَا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَلِیٍّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ یَحْیَی أَخْبَرَنَا سُلَیْمُ بْنُ أَخْضَرَ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : أَصَابَ عُمَرُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ أَرْضًا بِخَیْبَرَ فَأَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- یَسْتَأْمِرُہُ فِیہَا فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أَصَبْتُ أَرْضًا بِخَیْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالاً قَطُّ ہُوَ أَنْفَسُ عِنْدِی مِنْہُ فَمَا تَأْمُرُ بِہِ فَقَالَ : إِنْ شِئْتَ حَبَسْتَ أَصْلَہَا وَتَصَدَّقْتَ بِہَا۔ قَالَ: فَتَصَدَّقَ بِہَا عُمَرُ أَنْ لاَ یُبَاعُ أَصْلُہَا لاَ یُبَاعُ وَلاَ یُورَثُ وَلاَ یُوہَبُ قَالَ فَتَصَدَّقَ عُمَرُ فِی الْفُقَرَائِ وَفِی الْقُرْبَی وَالرِّقَابِ وَفِی سَبِیلِ اللَّہِ وَابْنِ السَّبِیلِ وَالضَّیْفِ لاَ جُنَاحَ عَلَی مَنْ وَلِیَہَا أَنْ یَأْکُلَ مِنْہَا بِالْمَعْرُوفِ وَیُطْعِمَ صَدِیقًا غَیْرَ مُتَمَوِّلٍ فِیہِ۔
قَالَ فَحَدَّثْتُ بِہَذَا الْحَدِیثِ مُحَمَّدًا فَلَمَّا بَلَغْتُ ہَذَا الْمَکَانَ غَیْرَ مُتَمَوِّلٍ مَالاً قَالَ مُحَمَّدٌ : غَیْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالاً۔
قَالَ ابْنُ عَوْنٍ وَأَخْبَرَنِی مَنْ قَرَأَ ہَذَا الْکِتَابَ أَنَّ فِیہِ غَیْرَ مُتَأَثِّلٍ مَالاً۔
رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی۔ [صحیح]
(١١٨٨٨) حضرت ابن عمر (رض) فرماتے ہیں : حضرت عمر (رض) کو خیبر میں زمین ملی، وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے، مشورہ مانگا اور کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے خیبر میں زمین ملی ہے، اس سے زیادہ مجھے کوئی چیز محبوب نہیں ہے، آپ مجھے اس بارے کیا حکم دیتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : اگر تو چاہے تو اس کی اصل روک لے اور اس کی پیداوار صدقہ کر دے، راوی کہتے ہیں : حضرت عمر (رض) نے صدقہ کردیا اس شرط پر کہ اس کی اصل کو نہ بیچا جائے گا، نہ اس کا کوئی وارث بنے گا، نہ ہبہ کی جائے گی۔ حضرت عمر (رض) نے فقراء، رشتہ داروں، گردن آزاد کرنے، اللہ کے راستے میں، مسافر اور مہمان کے لیے صدقہ کردیا اور کہا : جو اس کا والی ہو وہ معروف طریقے سے کھالے یا کسی محتاج دوست کو کھلا دے تو کوئی حرج نہیں ہے۔