(۱۱۹۱۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی الْحُسَیْنُ بْنُ عَلِیٍّ التَّمِیمِیُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِی حَاتِمٍ قَالَ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عَبْدِ الْحَکَمِ یَقُولُ سَمِعْتُ الشَّافِعِیَّ یَقُولُ : اجْتَمَعَ مَالِکٌ وَأَبُو یُوسُفَ عِنْدَ أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ فَتَکَلَّمَا فِی الْوُقُوفِ وَمَا یَحْبِسُہُ النَّاسُ فَقَالَ یَعْقُوبُ : ہَذَا بَاطِلٌ قَالَ شُرَیْحٌ : جَائَ مُحَمَّدٌ -ﷺ- بِإِطْلاَقِ الْحَبْسِ فَقَالَ مَالِکٌ : إِنَّمَا جَائَ مُحَمَّدٌ صَلَّی اللَّہِ عَلَیْہِ وَآلِہِ وَسَلَّمَ بِإِطْلاَقِ مَا کَانُوا یَحْبِسُونَہُ لآلِہَتِہِمْ مِنَ الْبَحِیرَۃِ وَالسَّائِبَۃِ۔ فَأَمَّا الْوُقُوفُ فَہَذَا وَقْفُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ حَیْثُ اسْتَأْذَنَ النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : حَبِّسْ أَصْلَہَا وَسَبِّلْ ثَمَرَتَہَا ۔ وَہَذَا وَقْفُ الزُّبَیْرِ فَأَعْجَبَ الْخَلِیفَۃَ ذَلِکَ مِنْہُ وَبَقِیَ یَعْقُوبُ۔ [صحیح]
(١١٩١٢) محمد بن عبداللہ بن حکم فرماتے ہیں : میں نے امام شافعی (رح) سے سنا ، وہ کہتے تھے : امام مالک اور امام ابویوسف امیرالمومنین کے پاس جمع ہوئے۔ وہ دونوں وقف اور لوگ جو روکتے ہیں اس بارے میں باتیں کرنے لگے۔ یعقوب نے کہا : یہ باطل ہے، شریح نے کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حبس کو توڑ نے آئے ہیں۔ مالک نے کہا : محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بحیرہ، سائبہ جن کو لوگ روک لیتے ہیں اسے توڑنے آئے ہیں۔ رہا وقف کرنا یہ عمر بن خطاب (رض) کا وقف ہے۔ انھوں نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت مانگی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اصل کو روک لے اور اس کا پھل اللہ کے راستے میں وقف کر دے اور یہ زبیر کا وقف ہے، خلیفہ کو تعجب ہوا اور یعقوب باقی رہ گئے۔