(۱۱۹۱۳) حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ إِمْلاَئً حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا الْحُمَیْدِیُّ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِینَارٍ وَعَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی بَکْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّہِ الَّذِی أُرِیَ النِّدَائَ أَنَّہُ أَتَی رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ حَائِطِی ہَذَا صَدَقَۃٌ وَہُوَ إِلَی اللَّہِ وَرَسُولِہِ فَجَائَ أَبَوَاہُ فَقَالاَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ کَانَ قَوَامَ عَیْشِنَا فَرَدَّہُ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- إِلَیْہِمَا ثُمَّ مَاتَا فَوَرِثَہُمَا ابْنَہُمَا بَعْدُ۔ [الدارقطنی ۴/ ۲۰۲]
ہَذَا مُرْسَلٌ۔أَبُو بَکْرِ بْنُ حَزْمٍ لَمْ یُدْرِکْ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ زَیْدٍ۔ وَرُوِیَ مِنْ أَوْجُہٍ أُخَرَ عَنْ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ زَیْدٍ کُلُّہُنَّ مَرَاسِیلُ۔
وَالْحَدِیثُ وَارِدٌ فِی الصَّدَقَۃِ الْمُنْقَطِعَۃِ وَکَأَنَّہُ تَصَدَّقَ بِہِ صَدَقَۃَ تَطَوُّعٍ وَجَعَلَ مَصْرِفَہَا إِلَی اخْتِیَارِ رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَتَصَدَّقَ بِہَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- عَلَی أَبَوَیْہِ۔
(١١٩١٣) عبداللہ بن زید جنہیں اذان خواب میں سنائی گئی، وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے اور کہا : اے اللہ کے رسول ! میرا یہ باغ صدقہ ہے، اللہ اور اس کے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے ہے۔ اس کے والدین آئے، انھوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ ہمارے گزر بسر کا ذریعہ تھا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسے ان کی طرف لوٹا دیا، پھر وہ دونوں فوت ہوگئے۔ اس کے بعد ان کے بیٹے وارث بن گئے۔
اس حدیث میں جو وارد ہوا ہے گویا کہ اس نے صدقہ کردیا اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو خرچ کرنے کا اختیار دے دیا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کے والدین پر صدقہ کردیا۔