hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 11919

.

سنن البيهقي

11919
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۹۱۴) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ قَالَ أَخْبَرَنِی (ح) وَأَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ : أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ سَمِعْتُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ یَقُولُ : إِنَّ الْبَحِیرَۃَ الَّتِی یُمْنَعُ دَرُّہَا لِلطَّوَاغِیتِ فَلاَ یَحْتَلِبُہَا أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ وَالسَّائِبَۃُ الَّتِی کَانُوا یُسَیِّبُونَہَا لآلِہَتِہِمْ وَلاَ یُحْمَلُ عَلَیْہَا شَیْئٌ۔ قَالَ وَقَالَ أَبُو ہُرَیْرَۃَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- یَقُولُ : رَأَیْتُ عَمْرًا الْخُزَاعِیَّ یَجُرُّ قُصْبَہُ فِی النَّارِ وَکَانَ أَوَّلَ مَنْ سَیَّبَ السَّوَائِبَ ۔ قَالَ ابْنُ الْمُسَیَّبِ : وَالْوَصِیلَۃُ النَّاقَۃُ الْبَکْرُ تُبْتَکَرُ فِی أَوَّلِ نِتَاجِ الإِبِلِ بِالأُنْثَی ثُمَّ تُثَنِّی بَعْدَ ذَلِکَ بِالأُنْثَی وَکَانُوا یُسَیِّبُونَہَا لِطَوَاغِیتِہِمْ وَیَدْعُونَہَا الْوَصِیلَۃُ حِینَ وُصِلَتْ إِحْدَاہُمَا بِالأُخْرَی لَیْسَ بَیْنَہُمَا ذَکَرٌ۔ قَالَ ابْنُ الْمُسَیَّبِ وَالْحَامُ : فَحْلُ الإِبِلِ کَانَ یَضْرِبُ الضِّرَابَ الْمَعْدُودَ فَإِذَا قَضَی ضِرَابَہُ دَعَوْہُ لِلطَّوَاغِیتِ وَأَعْفَوْہُ مِنَ الْحَمْلِ فَلَمْ یَحْمِلُوا عَلَیْہِ شَیْئًا وَسَمَّوْہُ الْحَامَ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ [بخاری ۳۵۳۱۔ مسلم ۲۸۵۶]
(١١٩١٤) (الف) زہری کہتے ہیں : میں نے سعید بن مسیب سے سنا ، وہ کہتے تھے : بحیرہ وہ اونٹنی تھی جس کے دودھ کی ممانعت ہوتی تھی، وہ بتوں کے لیے وقف ہوتی تھی، اس لیے کوئی بھی اس کا دودھ نہ دوہتا تھا اور سائبہ اسے کہتے ہیں، جسے وہ اپنے بتوں کے لیے چھوڑ دیتے تھے اور اس پر کوئی بوجھ نہ لادتا۔
حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے عمرو خزاعی کو دیکھا کہ وہ جہنم میں اپنی انتڑیاں گھسیٹ رہا تھا، یہی وہ پہلا شخص ہے جس نے سائبہ کی رسم نکالی۔
(ب) ابن مسیب کہتے ہیں : وصیلہ اس جوان اونٹنی کو کہتے ہیں جو پہلی مرتبہ مادہ بچہ جنتی ہے اور دوسری مرتبہ بھی مادہ جنتی ہے اسے بھی بتوں کے نام چھوڑ دیتے تھے، لیکن اسی صورت میں جبکہ وہ برابر دو مرتبہ مادہ بچہ جنے اور اس کے درمیان کوئی نر بچہ نہ ہو۔
(ج) ابن مسیب کہتے ہیں : حام وہ نر اونٹ ہے جو مادہ پر کئی دفعہ چڑھتا ہے، اسے بھی بتوں کے لیے وقف کردیتے اور بوجھ نہ لادتے تھے۔