(۱۱۹۱۹) أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ الْقَاضِی حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِیدٍ عَنْ عَامِرٍ الأَحْوَلِ عَنْ بَکْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ۔قَالَ وَحَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ حَدَّثَنَا إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِیدٍ حَدَّثَنَا عَامِرُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ الأَحْوَلُ حَدَّثَنِی بَکْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ الْمُزَنِیُّ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ : أَنَّ نَبِیَّ اللَّہِ -ﷺ- أَرَادَ الْحَجَّ فَقَالَتِ امْرَأَۃٌ لِزَوْجِہَا حُجَّ بِی مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ- قَالَ : مَا عِنْدِی مَا أُحِجُّکِ عَلَیْہِ قَالَتْ : أَحِجَّنِی عَلَی جَمَلِکَ فُلاَنٍ قَالَ : ذَاکَ حَبِیسٌ فِی سَبِیلِ اللَّہِ قَالَتْ : فَحُجَّ بِی عَلَی نَاضِحِکَ قَالَ : ذَاکَ نَعْتَقِبُہُ أَنَا وَابْنُکِ قَالَتْ : فَبِعْ ثَمَرَتَکَ قَالَ : ذَاکَ قُوتِی وَقُوتُکِ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَرْسَلَتْ زَوْجَہَا إِلَی النَّبِیِّ -ﷺ- فَقَالَتِ : أَقْرِئْہُ السَّلاَمَ وَرَحْمَۃَ اللَّہِ وَسَلْہُ مَا یَعْدِلُ حَجَّۃً مَعَکَ فَأَتَی زَوْجُہَا النَّبِیَّ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ امْرَأَتِی تُقْرِئُکَ السَّلاَمَ وَرَحْمَۃَ اللَّہِ وَإِنَّہَا سَأَلَتْنِی أُحِجُّہَا فَقُلْتُ : مَا عِنْدِی مَا أُحِجُّکِ عَلَیْہِ فَقَالَتِ : أَحِجَّنِی عَلَی جَمَلِکَ فُلاَنٍ قُلْتُ : ذَلِکَ حَبِیسٌ فِی سَبِیلِ اللَّہِ فَقَالَ النَّبِیُّ -ﷺ- : لَوْ کُنْتَ أَحْجَجْتَہَا عَلَیْہِ کَانَ فِی سَبِیلِ اللَّہِ ۔ قَالَتْ : فَأَحِجَّنِی عَلَی نَاضِحِکَ فَقُلْتُ : ذَاکَ نَعْتَقِبُہُ أَنَا وَابْنُکِ قَالَتْ : فَبِعْ ثَمَرَتَکَ فَضَحِکَ النَّبِیُّ -ﷺ- مِنْ حِرْصِہَا عَلَی الْحَجِّ وَقَالَ إِبْرَاہِیمُ بْنُ الْحَجَّاجِ فِی حَدِیثِہِ فَضَحِکَ النَّبِیُّ -ﷺ- عَجَبًا مِنْ حِرْصِہَا عَلَی الْحَجِّ قَالَ : فَإِنَّہَا أَمَرَتْنِی أَنْ أَسْأَلَکَ مَا یَعْدِلُ حَجَّۃً مَعَکَ قَالَ : أَقْرِئْہَا السَّلاَمَ وَرَحْمَۃَ اللَّہِ وَأَخْبِرْہَا أَنَّہُا تَعْدِلُ حَجَّۃً مَعِیَ عُمْرَۃٌ فِی رَمَضَانَ ۔
قَالَ الْقَاضِی ہَکَذَا رَوَاہُ عَبْدُالْوَارِثِ عَنْ عَامِرٍ الأَحْوَلِ عَنْ بَکْرٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَزَادَ ہِشَامٌ فِی إِسْنَادِہِ رَجُلاً۔ [بخاری ۱۷۸۲۔ مسلم ۱۲۵۶]
(١١٩١٩) حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حج کا ارادہ کیا۔ ایک عورت نے اپنے خاوند سے کہا : مجھے بھی نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ حج کراؤ۔ اس نے کہا : میرے پاس کچھ نہیں جس کے ساتھ میں حج کراؤں۔ عورت نے کہا : فلاں اونٹ پر حج کراؤ۔ اس نے کہا : وہ اللہ کے راستے کے لیے روکا ہوا ہے۔ عورت نے کہا : اپنے اونٹ پر کروا دو ۔ اس نے کہا : میں اور تیرا بیٹا اس کے ساتھ کام وغیرہ کرتے ہیں، عورت نے کہا : اپنا پھل بیچ دو ، اس نے کہا : وہ میرا اور تیرا کھانا ہے، جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آئے تو اس نے اپنے خاوند کو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیجا اور کہا : سلام کہنا اور ساتھ حج کرنے کے لیے کوئی چیز مانگنا۔ اس کا خاوند نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور اس نے کہا : میری بیوی نے آپ کو سلام کہا ہے اور اس نے مجھ سے حج کے لیے سواری مانگی ہے۔ میں نے کہا : میرے پاس کچھ نہیں ہے، جس سے تجھے حج کراؤں۔ اس نے کہا : فلاں اونٹ پر حج کراؤ۔ میں نے کہا : وہ اللہ کے راستے میں روکا ہوا ہے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : اگر تو اس کو اس اونٹ پر حج کرا دے تو یہ بھی اللہ کا راستہ ہی ہے، اس عورت نے کہا : مجھے اپنے اونٹ پر حج کروا، میں نے کہا : اس سے میں اور تیرا بیٹا کام وغیرہ کرتے ہیں۔ اس نے کہا : اپنا پھل بیچو۔ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حج پر اس کی حرص سن کر ہنسے، اس آدمی نے کہا : میری بیوی نے کہا ہے کہ میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سواری مانگوں ساتھ حج کرنے کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : اسے سلام کہنا اور اسے خبر دینا کہ رمضان میں عمرہ حج کے برابر ہوتا ہے۔