hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 11925

.

سنن البيهقي

11925
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۹۲۰) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنِی أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَخْتُوَیْہِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیِّ بْنِ زِیَادٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِی أُوَیْسٍ حَدَّثَنِی خَالِی مَالِکٌ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ أَنَّہُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ یَقُولُ : کَانَ أَبُو طَلْحَۃَ أَکْثَرُ أَنْصَارِیٍّ بِالْمَدِینَۃِ مَالاً مِنْ نَخْلٍ وَکَانَتْ أَحَبُّ أَمْوَالَہُ إِلَیْہِ بِئْرًا تُسَمَّی بَیْرُحَائَ وَکَانَتْ مُسْتَقْبِلَۃَ الْمَسْجِدِ وَکَانَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- یَدْخُلُہَا وَیَشْرَبُ مِنْ مَائٍ کَانَ فِیہَا طَیِّبٍ قَالَ أَنَسٌ : فَلَمَّا نَزَلَتْ ہَذِہِ الآیَۃُ {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ} قَامَ أَبُو طَلْحَۃَ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ یَقُولُ (لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ) وَإِنَّ أَحَبَّ مَالِی إِلَی بَیْرُحَائَ وَإِنَّہَا صَدَقَۃٌ لِلَّہِ أَرْجُو بِرَّہَا وَذُخْرَہَا عِنْدَ اللَّہِ فَضَعْہَا یَا رَسُولَ اللَّہِ حَیْثُ أَرَاکَ اللَّہُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- : ذَلِکَ مَالٌ رَائِحٌ ۔ وَقَدْ سَمِعْتُ مَا قُلْتَ وَإِنِّی أَرَی أَنْ تَجْعَلَہَا فِی الأَقْرَبِینَ قَالَ أَبُو طَلْحَۃَ : أَفْعَلُ یَا رَسُولَ اللَّہِ فَقَسَمَہَا أَبُو طَلْحَۃَ فِی أَقَارِبِہِ َنِی عَمِّہِ قَالَ إِسْمَاعِیلُ یَعْنِی بِالْمَالِ الرَّائِحِ الَّذِی یَغْدُو بِخَیْرٍ وَیَرُوحُ بِخَیْرٍ۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أَبِی أُوَیْسٍ وَرَوَاہُ مُسْلِمٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ یَحْیَی عَنْ مَالِکٍ۔ [مسلم ۹۹۸]
(١١٩٢٠) حضرت انس (رض) نے فرمایا : حضرت ابو طلحہ مدینہ کے انصار میں سے زیاہ مالدار تھے اور ان کے پسندیدہ اموال میں سے بئر بیرحاء تھا اور وہ مسجد کی طرف تھا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس میں داخل ہوتے تھے اور اس کے پاکیزہ پانی کو پیتے تھے، انس نے کہا : جب یہ آیت نازل ہوئی { لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّی تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ } تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکتے یہاں تک کہ تم اپنی پسندیدہ چیز خرچ نہ کرلو۔ “ [اٰل عمران ] تو ابو طلحہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے اور کہا : اے اللہ کے رسول ! اللہ فرماتے ہیں : { لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ } [اٰل عمران ] اور میرا محبوب مال بئر بیرحاء ہے۔ وہ اللہ کے لیے صدقہ ہے۔ میں امید کرتا ہوں اس کی نیکی اور اس کے اللہ تعالیٰ کے ہاں ذخیرہ بن جانے کا۔ اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! اسے رکھ لیں اور جہاں اللہ آپ کو حکم دیں۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : یہ مال راحت دینے والا ہے اور میں نے سنا جو تو نے کہا ۔ میرا خیال ہے کہ تو اسے اپنے رشتہ داروں میں بانٹ دے۔ ابوطلحہ نے کہا : میں کروں اے اللہ کے رسول ! ابو طلحہ نے اپنے رشتہ داروں میں اور چچا زاد میں تقسیم کردیا۔
اسماعیل فرماتے ہیں : راحت والا مال وہ ہے جو صبح بھی خیر سے اور شام بھی خیر سے ہو۔