(۱۱۹۵۳) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَیْنِ بْنُ بِشْرَانَ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِیلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا أَبُو یَحْیَی : زَکَرِیَّا بْنُ یَحْیَی بْنِ أَسَدٍ حَدَّثَنَا سُفْیَانُ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدٍ الْقَارِیِّ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ قَالَ : مَا بَالُ أَقْوَامٍ یَنْحِلُونَ أَوْلاَدَہُمْ نُحْلَۃً فَإِذَا مَاتَ أَحَدُہُمْ قَالَ مَالِی فِی یَدِی وَإِذَا مَاتَ ہُوَ قَالَ : قَدْ کُنْتُ نَحَلْتُہُ وَلَدِی لاَ نُحْلَۃَ إِلاَّ نُحْلَۃً یَحُوزُہَا الْوَلَدُ دُونَ الْوَالِدِ فَإِنْ مَاتَ وَرِثَہُ۔ [صحیح]
(١١٩٥٣) حضرت عمر (رض) نے فرمایا : لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ اپنی اولاد کو عطیہ دیتے ہیں، جب ان میں سے کوئی فوت ہوجاتا ہے تو کہتا ہے : میرا مال میرے پاس ہے۔ اگر خود فوت ہوجائے تو کہتا ہے کہ میں نے اپنے بیٹے کو عطیہ دیا تھا، کوئی عطیہ نہیں ہے مگر جس پر اس کی اولاد قبضہ کرلے، والد کے علاوہ۔ پس اگر وہ فوت ہوجائے تو یہ (عطیہ) اس کی وراثت میں شامل ہوجائے گا۔