(۱۱۹۵۸) أَخْبَرَنَا أَبُو أَحْمَدَ : عَبْدُ اللَّہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْحَسَنِ الْمِہْرَجَانِیُّ أَخْبَرَنَا أَبُو بَکْرٍ : مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْمُزَکِّی حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ الْبُوشَنْجِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ بُکَیْرٍ حَدَّثَنَا مَالِکٌ عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ أَنَّہُ قَالَ أَخْبَرَنِی مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاہِیمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّیْمِیُّ عَنْ عِیسَی بْنِ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللَّہِ عَنْ عُمَیْرِ بْنِ سَلَمَۃَ الضَّمْرِیِّ أَنَّہُ أَخْبَرَہُ عَنِ الْبَہْزِیِّ : أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- خَرَجَ یُرِیدُ مَکَّۃَ وَہُوَ مُحْرِمٌ حَتَّی إِذَا کَانَ بِالرَّوْحَائِ إِذَا حِمَارٌ وَحْشِیٌّ عَقِیرٌ فَذُکِرَ لِرَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : دَعُوہُ فَإِنَّہُ یُوشِکُ أَنْ یَأْتِیَ صَاحِبُہُ ۔ فَجَائَ الْبَہْزِیُّ وَہُوَ صَاحِبُہُ إِلَی رَسُولِ اللَّہِ -ﷺ- فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللَّہِ شَأْنَکُمْ بِہَذَا الْحِمَارِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ- أَبَا بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ فَقَسَمَہُ بَیْنَ الرِّفَاقِ ثُمَّ مَضَی حَتَّی إِذَا کَانَ بِالأَثَایَۃِ بَیْنَ الرُّوَیْثَۃِ وَالْعَرْجِ إِذَا ظَبْیٌ حَاقِفٌ فِی ظِلٍّ وَفِیہِ سَہْمٌ فَزَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- أَمَرَ رَجُلاً یَثْبُتُ عِنْدَہُ لاَ یُرِیبُہُ أَحَدٌ مِنَ النَّاسِ حَتَّی یُجَاوِزَہُ۔
وَرَوَی مُسْلِمٌ الْبَطِینُ : أَنَّ حُسَیْنَ بْنَ عَلِیٍّ وَرِثَ مَوَارِیثَ فَتَصَدَّقَ بِہَا قَبْلَ أَنْ تُقْسَمَ فَأُجِیزَتْ۔
[صحیح۔ مالک فی الموطا ۱۱۳۹]
(١١٩٥٨) بہزی سے روایت ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مکہ کا ارادہ کیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) احرام کی حالت میں تھے ۔ جب روحاء کے مقام پر آئے تو وہاں ایک نیل گائے زخمی پڑی تھی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس کا ذکر کیا گیا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ اسے چھوڑ دو ، کیونکہ ہوسکتا ہے اس کا شکار کنندہ آجائے۔ پس بہزی آیا اور وہی اس کا شکاری تھا۔ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر کہا : اے اللہ کے رسول ! آپ لوگ یہ لے لیں ۔ حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا تو حضرت ابوبکر (رض) اسے ساتھیوں میں تقسیم کردیا۔ پھر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آگے چلے حتیٰ کہ جب مقام اثایہ پر پہنچے جو رویثہ اور عرج کے درمیان ہے تو ایک ہرن سر جھکائے سائے میں کھڑا دیکھا۔ اس میں ایک تیر تھا ۔ راوی نے کہا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک آدمی کو اس کے پاس کھڑا ہونے کا حکم دیا تاکہ لوگ گزر جائیں اور اسے کوئی نہ چھیڑے۔