hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 11983

.

سنن البيهقي

11983
Sunan Al Bayhaqi
(۱۱۹۷۸) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ : مُحَمَّدُ بْنُ یَعْقُوبَ مِنْ أَصْلِ کِتَابِہِ حَدَّثَنَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِیُّ حَدَّثَنَا أَبُو عُمَرَ الْحَوْضِیُّ حَدَّثَنَا ہَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَۃُ قَالَ قَالَ لِی سُلَیْمَانُ بْنُ ہِشَامٍ : إِنَّ ہَذَا لاَ یَدَعُنَا یَعْنِی الزُّہْرِیَّ نَأْکُلُ شَیْئًا إِلاَّ أَمَرَنَا أَنْ نَتَوَضَّأَ مِنْہُ قُلْتُ سَأَلْتُ عَنْہُ سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ فَقَالَ : إِذَا أُکْلَتَہُ فَہُوَ طَیِّبٌ فَلَیْسَ عَلَیْکَ فِیہِ وُضُوئٌ وَإِذَا خَرَجَ فَہُوَ خَبِیثٌ عَلَیْکَ فِیہِ الْوُضُوئُ فَقَالَ : مَا أُرَاکُمَا إِلاَّ قَدِ اخْتَلَفْتُمَا فَہَلْ فِی الْبَلَدِ أَحَدٌ قُلْتُ : نَعَمْ أَقْدَمُ رَجُلٍ فِی جَزِیرَۃِ الْعَرَبِ قَالَ : مَنْ؟ قُلْتُ : عَطَائٌ فَأَرْسَلَ إِلَیْہِ فَجِیئَ بِہِ فَقَالَ : إِنَّ ہَذَیْنِ قَدِ اخْتَلَفَا عَلَیَّ فَمَا تَقُولُ قَالَ حَدَّثَنِی جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّہُمْ أَکَلُوا مَعَ أَبِی بَکْرٍ خُبْزًا وَلَحْمًا ثُمَّ قَامَ فَصَلَّی وَلَمْ یَتَوَضَّأْ۔فَقَالَ لِی مَا تَقُولُ فِی الْعُمْرَی؟ قَالَ قُلْتُ حَدَّثَنِی النَّضْرُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ بَشِیرِ بْنِ نَہِیکٍ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ- قَالَ : الْعُمْرَی جَائِزَۃٌ ۔ قَالَ فَقَالَ الزُّہْرِیُّ : إِنَّہَا لاَ تَکُونُ عُمْرَی حَتَّی تُجْعَلَ لَہُ وَلِعَقِبِہِ قَالَ فَقَالَ لِعَطَائٍ : مَا تَقُولُ؟ قَالَ حَدَّثَنِی جَابِرُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ أَنَّ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- قَالَ : الْعُمْرَی جَائِزَۃٌ ۔ قَالَ الزُّہْرِیُّ : إِنَّ الْخُلَفَائَ لاَ یَقْضُونَ بِذَلِکَ قَالَ عَطَائٌ : َضَی بِہِ عَبْدُ الْمَلِکِ بْنُ مَرْوَانَ فِی کَذَا وَکَذَا۔ رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ مُخْتَصَرًا بِالإِسْنَادَیْنِ دُونَ الْقَصَّۃِ۔ [صحیح]
(١١٩٧٨) حضرت قتادہ (رض) نے فرمایا کہ سلیمان بن ہشام نے مجھے بیان کیا کہ زہری ہمیں نہیں چھوڑتے۔ ہم کوئی بھی چیز کھاتے ہیں تو ہمیں وضو کا حکم دیتے ہیں۔ میں نے کہا : میں نے سعید بن مسیب سے سوال کیا تو انھوں نے کہا : جب تو اس کو کھاتا ہے تو وہ پاک ہے۔ تیرے لیے اس میں وضو نہیں ہے اور جب وہ تجھ سے نکلے (پاخانہ کی صورت میں) تو وہ ناپاک ہے۔ اس میں تیرے اوپر وضو ہے۔ اس نے کہا : کیا ہے میں تم میں اختلاف کیوں دیکھتا ہوں ؟ کیا شہر میں کوئی آدمی ہے ؟ میں نے کہا : ہاں جزیرہ عرب میں ایک آدمی آیا ہے۔ اس نے پوچھا : کون ؟ میں نے کہا : عطاء۔ اس نے بلایا اور کہا : ان دونوں نے مجھ سے اختلاف کیا ہے، پس آپ کیا فرماتے ہیں ؟ اس نے کہا : مجھے جابر بن عبداللہ (رض) نے بیان کیا کہ وہ ابوبکر (رض) کے ساتھ روٹی اور گوشت کھاتے تھے، پھر نماز کے لیے کھڑے ہوتے اور وضو نہ کرتے تھے۔ اس نے مجھے کہا : آپ عمریٰ کے بارے میں کیا کہتے ہیں ؟ میں نے کہا : مجھے ابوہریرہ (رض) سے یہ بات پہنچی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عمریٰ جائز ہے، اس نے کہا : زہری نے کہا کہ عمریٰ اس صورت میں ہے کہ تم وہ چیز اس کے لیے اور اس کے ورثاء کے لیے کر دو ۔ عطاء سے پوچھا گیا : آپ کیا کہتے ہیں ؟ اس نے کہا : مجھے جابر بن عبداللہ (رض) نے فرمایا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : عمریٰ جائز ہے۔ زہری نے کہا : خلفاء اس طرح فیصلہ نہ کرتے تھے۔ عطاء نے کہا : عبدالملک بن مروان نے اس کا اسی طرح فیصلہ کیا ہے۔