(۱۲۱) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنِی أَبُو النَّضْرِ الْفَقِیہُ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِیدٍ الدَّارِمِیُّ قَالَ قَرَأْنَاہُ عَلَی أَبِی الْیَمَانِ عَنْ شُعَیْبِ بْنِ أَبِی حَمْزَۃَ عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ أَخْبَرَنِی عُبَیْدُ اللَّہِ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ بْنِ عُتْبَۃَ۔
أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ:لَمَّا ثَقُلَ النَّبِیُّ -ﷺ- وَاشْتَدَّ بِہِ وَجَعُہُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَہُ فِی أَنْ یُمَرَّضَ فِی بَیْتِی فَأَذِنَّ لَہُ ، فَخَرَجَ النَّبِیُّ -ﷺ-بَیْنَ رَجُلَیْنِ تَخُطُّ رِجْلاَہُ فِی الأَرْضِ بَیْنَ عَبَّاسٍ وَرَجُلٍ آخَرَ۔ قَالَ عُبَیْدُ اللَّہِ:فَأَخْبَرْتُ عَبْدَ اللَّہِ بْنَ عَبَّاسٍ فَقَالَ:أَتَدْرِی مَنِ الرَّجُلُ الآخَرُ؟ قُلْتُ:لاَ۔ قَالَ:ہُوَ عَلِیٌّ۔
وَکَانَتْ عَائِشَۃُ تُحَدِّثُ أَنَّ النَّبِیَّ -ﷺ-قَالَ بَعْدَ مَا دَخَلَ بَیْتَہُ وَاشْتَدَّ وَجَعُہُ: أَہْرِیقُوا عَلَیَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْکِیَتُہُنَّ ، لَعَلِّی أَعْہَدُ إِلَی النَّاسِ ۔فَأُجْلِسَ فِی مِخْضَبٍ لِحَفْصَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ -ﷺ-ثُمَّ طَفِقْنَا نَصُبُّ عَلَیْہِ تِلْکَ حَتَّی طَفِقَ یُشِیرُ إِلَیْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنَّ ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَی النَّاسِ۔
رَوَاہُ الْبُخَارِیُّ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَبِی الْیَمَانِ۔ وَیُقَالُ أَنَّ ذَلِکَ الْمِخْضَبَ کَانَ مِنْ نُحَاسٍ وَذَلِکَ فِیمَا:
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۶۵۵]
(١٢١) ام المؤمنین سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : جب نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھاری ہوگئے اور آپ کی تکلیف زیادہ ہوگئی تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی بیویوں سے اجازت لی کہ میرے گھر میں میری تیمار داری کی جائے، انھوں نے آپ کو اجازت دے دی۔ نبی کرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو آدمیوں کے سہارے نکلے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاؤں زمین پر گھسٹ رہے تھے ۔ وہ (دو آدمی) عباس (رض) اور ایک دوسرے صحابی تھے۔ عبیداللہ کہتے ہیں : میں نے اس بات کی خبر عبداللہ بن عباس (رض) کو دی تو انھوں نے فرمایا : کیا تو جانتا ہے دوسرا آدمی کون تھا ؟ میں نے کہا نہیں ۔ فرماتے ہیں : وہ علی (رض) تھے۔ عائشہ (رض) بتایا کرتی تھیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے گھر میں داخل ہونے کے بعد فرمایا اور آپ کی تکلیف بڑھ گئی تھی : ” مجھ پر سات مشکیں پانی بہاؤ جو بھری ہوئی ہوں ” شاید میں لوگوں کی طرف جاؤں۔ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سیدہ حفصہ (رض) کے کپڑے دھونے والے برتن میں بٹھایا گیا۔
پھر ہم آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پانی ڈالنا شروع ہوئیں حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہماری طرف اشارہ کرنا شروع ہوئے کہ کافی ہے، پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) لوگوں کی طرف نکلے۔