(۱۲۲) أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِیٍّ أَبُو بَکْرِ الْحَافِظُ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ: إِبْرَاہِیمُ بْنُ عَبْدِ اللَّہِ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّزَّاقِ وَقَالَ ابْنُ رَافِعٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ أَوْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ-فِی مَرَضِہِ الَّذِی مَاتَ فِیہِ: ((صُبُّوا عَلَیَّ مِنْ سَبْعِ قِرَبٍ لَمْ تُحْلَلْ أَوْکِیَتُہُنَّ ، لَعَلِّی أَسْتَرِیحُ فَأَعْہَدُ إِلَی النَّاسِ))قَالَتْ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا: فَأَجْلَسْنَاہُ فِی مِخْضَبٍ لِحَفْصَۃَ مِنْ نُحَاسٍ وَسَکَبْنَا عَلَیْہِ الْمَائَ حَتَّی طَفِقَ یُشِیرُ إِلَیْنَا أَنْ قَدْ فَعَلْتُنْ ، ثُمَّ خَرَجَ۔
قَالَ وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ یَحْیَی مَرَّۃً حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ عَنْ عُرْوَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ بِمِثْلِہِ غَیْرَ أَنَّہُ لَمْ یَقُلْ: مِنْ نُحَاسٍ۔وَلَمْ یَقُلْ: ثُمَّ خَرَجَ۔ [صحیح۔ أخرجہ احمد ۶/۱۵۱]
(١٢٢) ام المؤمنین سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے مرض وفات میں فرمایا : ” مجھ پر سات مشکیں پانی کی ڈالو جو بھری ہوئی ہوں شاید مجھے راحت مل جائے، پھر میں لوگوں کی طرف جا سکوں۔ سیدہ عائشہ (رض) فرماتی ہیں : ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سیدہ حفصہ (رض) کے کپڑے دھونے والے پیتل کے برتن میں بٹھایا۔ پھر ہم نے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر پانی ڈالا حتیٰ کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہماری طرف اشارہ کیا کہ کافی ہے۔ “ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (لوگوں کی طرف) تشریف لے گئے۔
(ب) عروہ نے حضرت عائشہ (رض) سے پچھلی حدیث کی طرح بیان کیا ہے، لیکن اس میں ” من نُحَاسٍ “ کے الفاظ نہیں ہیں۔ اسی طرح ثُمَّ خَرَجَ کے الفاظ بھی نہیں ہیں۔