(۱۲۰۰۲) أَخْبَرَنَاہُ أَبُو عَلِیٍّ الرُّوذْبَارِیُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا ہُشَیْمٌ أَخْبَرَنَا سَیَّارٌ وَأَخْبَرَنَا مُغِیرَۃُ وَأَخْبَرَنَا دَاوُدُ عَنِ الشَّعْبِیِّ وَمُجَالِدٌ وَإِسْمَاعِیلُ بْنُ سَالِمٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ قَالَ : نَحَلَنِی أَبِی نُحْلاً قَالَ إِسْمَاعِیلُ بْنُ سَالِمٍ مِنْ بَیْنَ الْقَوْمِ : نَحَلَہُ غُلاَمًا لَہُ قَالَ فَقَالَتْ لَہُ أُمِّی عَمْرَۃُ بِنْتُ رَوَاحَۃَ : ائْتِ رَسُولَ اللَّہِ -ﷺ- فَأَشْہِدْہُ قَالَ فَأَتَی النَّبِیَّ -ﷺ- فَذَکَرَ ذَلِکَ لَہُ فَقَالَ : إِنِّی نَحَلْتُ ابْنِی النُّعْمَانَ نُحْلاً وَإِنَّ عَمْرَۃَ سَأَلَتْنِی أَنْ أُشْہِدَکَ عَلَی ذَلِکَ قَالَ فَقَالَ : أَلَکَ وَلَدٌ سِوَاہُ؟ ۔ قَالَ قُلْتُ : نَعَمْ قَالَ : وَکُلَّہُمْ أَعْطَیْتَہُ مِثْلَ الَّذِی أَعْطَیْتَ النُّعْمَانَ؟ ۔ قَالَ : لاَ قَالَ فَقَالَ بَعْضُ ہَؤُلاَئِ الْمُحَدِّثِینَ : ہَذَا جَوْرٌ ۔ وَقَالَ بَعْضُہُمْ : ہَذَا تَلْجِئَۃٌ فَأَشْہِدْ عَلَی ہَذَا غَیْرِی ۔ قَالَ مُغِیرَۃُ فِی حَدِیثِہِ : أَلَیْسَ یَسُرُّکَ أَنْ یَکُونُوا لَکَ فِی الْبِرِّ وَاللُّطْفِ سَوَائً ۔ قَالَ : نَعَمْ قَالَ : فَأَشْہِدْ عَلَی ہَذَا غَیْرِی ۔ وَذَکَرَ مُجَالِدٌ فِی حَدِیثِہِ : إِنَّ لَہُمْ عَلَیْکَ مِنَ الْحَقِّ أَنْ تَعْدِلَ بَیْنَہُمْ کَمَا أَنَّ لَکَ عَلَیْہِمْ مِنَ الْحَقِّ أَنْ یَبَرُّوکَ ۔ [صحیح]
(١٢٠٠٢) نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے کہ مجھے میرے والدنے عطیہ دیا، اسماعیل بن سالم نے لوگوں کے درمیان سے کہا : غلام کا عطیہ دیا۔ نعمان نے کہا : میری ماں عمرہ بنت رواحہ نے کہا : تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس جا اور آپ کو گواہ بنا۔ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے، آپ کے سامنے یہ ذکر کیا کہ میں نے اپنے بیٹے نعمان کو عطیہ دیا ہے اور عمرہ نے مجھ سے سوال کیا ہے کہ میں آپ کو گواہ بناؤں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تیرے اس کے علاوہ اور بھی بیٹے ہیں ؟ اس نے کہا : ہاں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تو نے سب کو نعمان کی طرح عطیہ دیا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں، بعض محدثین نے نقل کیا ہے کہ یہ ظلم ہے اور بعض نے کہا : یہ خاص عطیہ ہے جو دوسروں کو چھوڑ کر اسے دیا گیا ہے یا مجبوری کا عطیہ ہے۔ پس میرے علاوہ کسی کو گواہ بنا لو۔ مغیرہ کے الفاظ ہیں : کیا تجھے پسند نہیں وہ کہ نیکی اور کرم میں تیرے لیے برابر ہوں۔ اس نے کہا : ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : میرے علاوہ کسی کو گواہ بنا لو اور مجاہد نے اپنی حدیث میں ذکر کیا ہے کہ تیرے اوپر ان کے لیے حق ہے کہ ان کے درمیان عدل کر، جس طرح ان پر تیرا حق ہے کہ وہ تجھ سے نیکی کریں۔