hadith book logo

Sunan Al Bayhaqi: Hadith 12009

.

سنن البيهقي

12009
Sunan Al Bayhaqi
(۱۲۰۰۴) أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ : عَلِیُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَبْدَانَ أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَیْدٍ الصَّفَّارُ حَدَّثَنَا قَاسِمُ بْنُ زَکَرِیَّا الْمُقْرِئُ حَدَّثَنَا الْحُسَیْنُ بْنُ عِیسَی الْبِسْطَامِیُّ حَدَّثَنَا أَزْہَرُ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنِ الشَّعْبِیِّ عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِیرٍ قَالَ : نَحَلَنِی أَبِی نِحْلَۃً ثُمَّ أَتَی بِی النَّبِیَّ -ﷺ- یُشْہِدُہُ فَقَالَ : أَکُلَّ بَنِیکَ أَعْطَیْتَہُ ہَذَا ۔ قَالَ : لاَ قَالَ : أَلَیْسَ تُرِیدُ مِنْہُمْ مِنَ الْبِرِّ مَا تُرِیدُ مِنْ ہَذَا ۔ قَالَ : بَلَی قَالَ : فَإِنِّی لاَ أَشْہَدُ ۔ قَالَ ابْنُ عَوْنٍ فَحَدَّثْتُہُ مُحَمَّدًا یَعْنِی ابْنَ سِیرِینَ فَقَالَ إِنَّمَا تَحَدَّثَنَا أَنَّہُ قَالَ : قَارِبُوا بَیْنَ أَوْلاَدِکُمْ ۔[صحیح] رَوَاہُ مُسْلِمٌ فِی الصَّحِیحِ عَنْ أَحْمَدَ بْنِ عُثْمَانَ النَّوْفَلِیِّ عَنْ أَزْہَرَ بْنِ سَعْدٍ۔ قَالَ الشَّافِعِیُّ رَحِمَہُ اللَّہُ : وَقَدْ فَضَّلَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا بِنُحْلٍ۔ قَالَ الشَّیْخُ :وَہَذَا فِیمَا أَخْبَرَنَا أَبُو سَعِیدِ بْنُ أَبِی عَمْرٍو حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ الْمُزَنِیُّ أَخْبَرَنَا عَلِیُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِیسَی حَدَّثَنَا أَبُو الْیَمَانِ أَخْبَرَنِی شُعَیْبٌ عَنِ الزُّہْرِیِّ أَخْبَرَنِی عُرْوَۃُ بْنُ الزُّبَیْرِ أَنَّ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہَا قَالَتْ : کَانَ أَبُو بَکْرٍ رَضِیَ اللَّہُ عَنْہُ نَحَلَنِی جِدَادَ عِشْرِینَ وَسْقًا مِنْ مَالِہِ فَلَمَّا حَضَرَتْہُ الْوَفَاۃُ جَلَسَ فَاحْتَبَی ثُمَّ تَشْہَّدَ ثُمَّ قَالَ : أَمَّا بَعْدُ أَیْ بُنَیَّۃُ إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَیَّ غِنًی بَعْدِی لأَنْتِ وَإِنِّی کُنْتُ نَحَلْتُکَ جَدَادَ عِشْرِینَ وَسْقًا مِنْ مَالِی فَوَدِدْتُ وَاللَّہِ إِنَّکَ کُنْتُ حُزْتِیہِ وَاجْتَدَدْتِیہِ وَلَکِنْ إِنَّمَا ہُوَ الْیَوْمَ مَالُ الْوَارِثِ وَإِنَّمَا ہُوَ أَخَوَاکِ وَأُخْتَاکِ قَالَتْ فَقُلْتُ : یَا أَبَتَاہُ ہَذِہِ أَسْمَائُ فَمَنِ الأُخْرَی قَالَ : ذُو بَطْنِ ابْنَۃِ خَارِجَۃَ أُرَاہُ جَارِیَۃً قَالَتْ فَقُلْتُ : لَوْ أَعْطَیْتَنِی مَا بَیْنَ کَذَا إِلَی کَذَا لَرَدَدْتُہُ إِلَیْکَ۔ [ضعیف] قَالَ الشَّافِعِیُّ : وَفَضَّلَ عُمَرُ عَاصِمَ بْنَ عُمَرَ بِشَیْئٍ أَعْطَاہُ إِیَّاہُ وَفَضَّلَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ وَلَدَ أُمِّ کُلْثُومٍ۔
(١٢٠٠٤) حضرت نعمان بن بشیر (رض) سے روایت ہے کہ میرے والدنے مجھے عطیہ دیا، پھر وہ مجھے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لائے کہ آپ کو گواہ بنالیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا : کیا تو نے اپنے سارے بیٹوں کو عطیہ دیا ہے ؟ اس نے کہا : نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کہا : کیا تو ان سے نیکی کا ارادہ نہیں رکھتاجس طرح اس سے رکھتا ہے ؟ اس نے کہا : کیوں نہیں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں گواہ نہیں بن سکتا، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اپنی اولاد میں قربت اختیار کرو۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حضرت ابوبکر (رض) نے حضرت عائشہ (رض) کو عطیہ کے ساتھ فضیلت دی۔
شیخ فرماتے ہیں : عروہ بن زبیر کہتے ہیں : حضرت عائشہ (رض) نے کہا : حضرت ابوبکر (رض) نے مجھے اپنے مال سے بیس وسق کاٹنے والی کھجوریں دیں، جب وفات کا وقت آیا تو بیٹھ گئے پھر گواہ بنایا، پھر کہا : اے پیاری بیٹی ! لوگوں میں سے میرے بعد تیرا غنی ہونا زیادہ پسندیدہ ہے اور بیشک میں نے تجھے بیس وسق کا ٹنے والی کھجوریں دیں ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ تو اسے اپنے قبضے میں لے اور کاٹ لے۔ لیکن آج وہ وارث کا مال ہے اور وہ تیرے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ حضرت عائشہ (رض) نے کہا : اے ابا جان ! یہ اسماء میری بہن ہے تو دوسری کون ہے ؟ آپ نے کہا : خارجہ کی بیٹی کے پیٹ میں جو ہے میرے خیال میں وہ لڑکی ہے، حضرت عائشہ (رض) نے کہا اگر آپ مجھے اتنا زیادہ بھی دیتے تو میں آپ کی طرف لوٹا دیتی،۔
امام شافعی (رح) فرماتے ہیں : حضرت عمر (رض) نے عاصم بن عمر کو عطیہ دے کر فضیلت دی اور عبدالرحمن بن عوف نے ام کلثوم کے بیٹے کو فضیلت دی۔