(۱۲۰۲) أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّہِ الْحَافِظُ أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ یَعْقُوبَ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ أَبِی طَالِبٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ أَخْبَرَنَا عَوْفٌ عَنْ أَبِی رَجَائٍ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ : کُنَّا فِی سَفَرٍ مَعَ النَّبِیِّ -ﷺ -… فَذَکَرَ الْحَدِیثَ فِی مَزَادَتَیِ الْمُشْرِکَۃِ قَالَ : فَدَعَا رَسُولُ اللَّہِ -ﷺ -بِإِنَائٍ فَأَفْرَغَ فِیہِ مِنْ أَفْوَاہِ الْمَزَادَتَیْنِ أَوِ السَّطِیحَتَیْنِ ، فَمَضْمَضَ فِی الْمَائِ وَأَعَادَہُ فِی أَفْوَاہِ الْمَزَادَتَیْنِ أَوِ السَّطِیحَتَیْنِ ، ثُمَّ أَوْکَأَ أَفْوَاہَہُمَا ، وَأَطْلَقَ الْعَزَالِیَ ثُمَّ قَالَ لِلنَّاسِ : ((اشْرَبُوا وَاسْتَقُوا))۔ مُخَرَّجٌ فِی الصَّحِیحَیْنِ مِنْ حَدِیثِ عَوْفٍ۔
[صحیح۔ أخرجہ البخاری ۳۳۷]
(١٢٠٢) سیدنا عمران بن حصین (رض) سے روایت ہے کہ ہم ایک سفر میں تھے ۔ پھر مشرکہ عورت کے مٹکوں والی لمبی حدیث بیان کی۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے برتن منگوایا، آپ نے مٹکوں کے منہ سے پانی ڈالا، پانی میں کلی کی، پھر اس (پانی) کو مٹکوں کے منہ میں ڈال دیا، پھر ان کے منہ بند کردیے۔ پھر ان مشکیزوں کو چھوڑدیا، پھر لوگوں سے کہا : ” خود بھی پیو اور (جانوروں کو بھی) پلاؤ۔